نصف سینچریوں کاعالمی ریکارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جاری پاک بھارت سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹیسٹ میچز کی تاریِخ میں نصف سنچریوں کاعالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ کسی بھی ٹیسٹ میچ میں سات ٹاپ آڈر بیٹسمینوں نے اس پہلے نصف سنچریاں سکور نہیں کیں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سات ٹاپ آڈر بیٹسمینوں نے ایک اننگز میں نصف سنچریاں بنائیں ہوں۔ اس سے پہلے چھ ٹاپ آڈر بیٹسمینوں کی نصف سنچریوں کا ریکارڈ ہے جو کہ تین مرتبہ بن چکا ہے۔ سب سے پہلے 1930 میں جمیکا میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا۔ 1989 میں پاکستان کے چھ ٹاپ آڈرکھلاڑیوں نے لاہور میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں بھارت کے خلاف نصف سنچریاں سکور کیں۔ 1998 میں بھارتی بیٹسمینوں نے آسٹریلیا کے خلاف یہ کارنامہ دہرایا۔ اب پاکستانی بیٹسمینوں نے سات نصف سنچریاں بنا کر سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اوپنرز سلمان بٹ اور عمران فرحت نے بلترتیب تریپن اور ستاون رنز بنائے اور ٹیم کو ایک اچھی بنیاد فراہم کی۔ کراچی ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے یونس خان نے ستتر رنز بنائے۔ محمد یوسف محض تین رنز سے سنچری نہ بنا سکے اور ستانوے سکور کیا۔ شاہدآفریدی نے جارحانہ انداز سے ساٹھ رنز بنائے۔ جاوید میاں داد کے بھانجے فیصل اقبال نے میچ کے تیسرے دن ہی سنچری بنا لی تھی اور پاکستان نے چھ نصف سنچریوں کے ساتھ دوسری مرتبہ یہ ریکارڈ برابر کر لیا تھا لیکن میچ کے چوتھے دن عبدالرزاق نے بھی نصف سنچری مکمل کی انہوں نے نوے رنز بنائے اور یوں پاکستانی سات ٹاپ آڈربیٹسمین نصف سنچریاں سکور کر کے ٹیسٹ میچ کی تاریخ میں اپنا نام سب سے اوپردرج کروانے میں کامیاب ہوئے۔ | اسی بارے میں پاکستان 478 رنز، انضمام کی سینچری 30 October, 2004 | کھیل یاسر حمید کی سینچری21 August, 2003 | کھیل بازید خان کی ٹرپل سینچری05 November, 2004 | کھیل یونس خان کی شاندار سینچری29 October, 2004 | کھیل یونس خان کی شاندار سینچری29 October, 2004 | کھیل لاہور: یوسف، اکمل کی سینچریاں01 December, 2005 | کھیل محمد یوسف کی سولہویں سینچری25 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||