یونس خان کی شاندار سینچری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک سال کی غیرحاضری کے بعد پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے یونس خان اور کپتان انضمام الحق کی شاندار بیٹنگ کے نتیجے میں پاکستان نے سری لنکا کے خلاف4 وکٹوں پر298 رنز بنالیے ہیں اس طرح اسے پہلی اننگز میں 90 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے اور اس کی6 وکٹیں باقی ہیں۔ یونس خان گزشتہ ستمبر میں بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ کے بعد سے ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں رہے تھے انہوں نے عاصم کمال کی جگہ ملنے والے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور29 ویں ٹیسٹ میں چھٹی اور سری لنکا کے خلاف تیسری سنچری اعتماد سے کھیلتے ہوئے164 گیندوں پر دس چوکوں کی مدد سے مکمل کی وہ بارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے124 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ کپتان انضمام الحق نے بھی جو ہر قیمت پر یہ ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنا چاہتے ہیں بلے پر اپنی مضبوط گرفت رکھتے ہوئے 79رنز کی عمدہ اننگز کھیلی وہ ابھی ناٹ آؤٹ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں7 ہزار رنز بھی مکمل کرلیے یہ ان کا 96 واں ٹیسٹ ہے وہ جاوید میانداد کے بعد یہ سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے24 ویں اور دوسرے پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ہیں ۔ میانداد نے124 ٹیسٹ میں8832 رنز اسکور کیے تھے۔ پاکستان کی اننگز کی ابتدا مایوس کن رہی۔ یاسر حمید صرف تین رنز بناکر پرویز ماہروف کی گیند پر زخمی کالووتھارنا کی جگہ وکٹ کیپنگ کرنے والے سنگاکارا کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ اسی نیشنل اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش کے خلاف اولین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریوں کے بعد یاسرحمید20 ٹیسٹ اننگز میں صرف چار نصف سنچریاں بناسکے ہیں۔ عمران فرحت نے ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ میں ون ڈے کے انداز میں جارحانہ بیٹنگ کی وہ بارہ چوکوں کی مدد سے رنز بناکر واس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ یونس خان اور عمران فرحت نے دوسری وکٹ کی شراکت میں122 رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد انضمام الحق کے ساتھ یونس خان تیسری وکٹ کے لیے شاندار149 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔ مرون اتاپتو نے چھ بولرز استعمال کیے لیکن کسی بھی بولر کو نمایاں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ پہلے دن پاکستانی بولرز نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے سری لنکا کو پہلی اننگز میں208 رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔ دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر یونس خان نے اپنی اننگز کو سری لنکا کے خلاف گزشتہ دو سنچریوں سے بہتر قراردیا ان کا کہنا تھا کہ کپتان انضمام الحق نے انہیں بھرپور حوصلہ دیا وہ خود بھی اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے ٹیم منیجمنٹ سے کہا تھا کہ وہ سب کو چانس دے رہے ہیں لہذا انہیں بھی اوپر کے نمبر پر موقع دیا جائے جہاں انہیں اپنی صلاحیت کے اظہار کا زیادہ موقع ہوتا ہے ون ڈے میں بھی ان کی جب بیٹنگ آتی ہے تو بہت کم اوورز باقی بچتے ہیں ان حالات میں وہ اوپنر کی حیثیت سے بھی کھیلنے کے لیے تیار تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||