BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 03:17 GMT 08:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی ٹیسٹ جعمرات سے شروع

News image
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں جمعرات سے شروع ہورہا ہے جس میں پاکستان سریز کو برابر کرنے کی کوشش کرئے گا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم فیصل آباد ٹیسٹ میں سری لنکا سے 201 رنز سے ہار گئی تھی۔

پاکسان نے پہلی اننگز میں سری لنکا کے پہلے تین کھلاڑی صرف نو رنز پر آؤٹ کر دیئے تھے لیکن پاکستانی بیٹسمین پہلی اننگز میں باولروں کی اچھی کارکردگی کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔

کپتان انضمام الحق یہ اعتراف کرتے ہیں کہ سیریز برابر کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا لیکن وہ مایوس نہیں ہیں اور انہیں امید ہے کہ پاکستانی ٹیم سیریز برابر کرنےمیں کامیاب ہوجائے گی۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سیریز برابر کرنا آسان نہیں ہے لیکن ان کی ٹیم کے حوصلے پست نہیں ہیں اور وہ کراچی ٹیسٹ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انضمام الحق کو شعیب اختر اور محمد سمیع کے ان فٹ ہونے سے دھچکہ پہنچا ہے ۔

پاکستانی بولرز کو سخت محنت کرنی ہوگی۔ محمد سمیع کی جگہ ریاض آفریدی کو ٹیسٹ کیپ دیئے جانے کا امکان ہے۔ لیف آرم میڈیم فاسٹ بولر محمد خلیل کو ٹیم شامل کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ عبدالرزاق کی جگہ رانا نویدالحسن بھی اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

انضمام الحق نے ایک بیٹسمین کی تبدیلی کا عندیہ بھی دیا ہے جو عاصم کمال کی جگہ یونس خان کی صورت میں ہوگی۔ پاکستانی کرکٹ میں ہر کھلاڑی کے انتخاب اور اسے نظرانداز کرنے کا پیمانہ مختلف ہے سلیکشن کمیٹی ہر کھلاڑی کو مناسب موقع دینے کا دعوی کرتی ہے لیکن کسی کھلاڑی کو ایک دو اننگز کی بنیاد پر ڈراپ کردیا جاتا ہے تو کسی کھلاڑی کو متواتر مواقع دیئے جاتے ہیں۔

وکٹ کیپر کامران اکمل پہلے ہی معین خان کی جگہ ٹیم میں شامل کیے جاچکے ہیں جس پر مبصرین اور ذرائع ابلاغ نے چیف سلیکٹر وسیم باری پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جب پندرہ رکنی اسکواڈ میں پہلے سے شامل وکٹ کیپر ذوالقرنین کپتان اور کوچ کے اعتماد پر پورے نہیں اترے اور ان کے خیال میں وہ ناتجربہ کار ہیں تو سلیکشن کمیٹی نے انہیں کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا تھا۔

چیف سلیکٹر ہمیشہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ کہ وہ ٹیم کے چناؤ میں کپتان اور کوچ کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔

پاکستان میں چند ایک کے سوا کوئی بھی سلیکٹر میدان میں جاکر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا خود جائزہ نہیں لیتا بلکہ کرکٹ بورڈ کے مرتب کردہ اعداد وشمار کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد