BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 October, 2004, 05:36 GMT 10:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا 201 رنز سے جیت گیا

News image
جے سوریانے اپنی اننگزمیں 33 چوکے اور چار چھکے لگائے
بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹسمین اکثر راہ سے بھٹک جاتے ہیں سہ فریقی ون ڈے سیریز کے فائنل کے بعد اب فیصل آباد ٹیسٹ میں بھی ایک بڑے ہدف نے ان ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کے وسیع تجربے کی قلعی کھول دی۔

سری لنکا نے پاکستان کو216 کے سکور پر آؤٹ کرکے201 رنز سے پہلا ٹیسٹ جیت لیا ہے اور اس دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔

یہ سری لنکا کی پاکستان کے خلاف سب سے بڑی کامیابی ہے اس سے قبل اس نے96-1995ء میں سیالکوٹ ٹیسٹ 144 رن سے جیتا تھا۔ سری لنکا نے پاکستان کے خلاف7 ٹیسٹ جیتے ہیں جن میں سے6 کامیابیاں اس نے پاکستان کی سرزمین پر حاصل کی ہیں۔

سری لنکا کی ٹیم پاکستان کے خلاف آخری دو ٹیسٹ سیریز اور ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل جیت چکی ہے اور اب اس نے مسلسل تیسری ٹیسٹ سیریز جیتنے کی راہ ہموار کرلی ہے جس کے لیے اسے کراچی ٹیسٹ ڈرا کرنے کی ہی ضرورت ہے جو جمعرات سے شروع ہوگا۔

میچ کے آخری دن شکست کو پرے دھکیلنے کی موہوم سی امید اسوقت دم توڑگئیں جب کھانے کے وقفے سے پہلے ہی سری لنکن بالرز تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بقیہ دو وکٹیں کھانے کے وقفے کے بعد ان کے قابو آگئیں۔

یوسف یوحنا جنہیں اس میچ میں پریکٹس کے موقع پر دل جلے تماشائیوں کے تیزوتند فقرے سننے پڑے تھے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی اپنے ورلڈ کلاس ہونے کا حق ادا نہ کرسکے اسپنر ہیرتھ کو بار بار پیڈ کرنے کی روش انہیں مہنگی پڑی اور امپائر بکنر نے بالآخر انہیں 44 رنز پر ایل بی ڈبلیو قراردے دیا یوں شعیب ملک کے ساتھ ان کی63 رنز کی شراکت بھی اختتام کو پہنچی۔

ہیرتھ نے اپنے اگلے اوور کی پہلی ہی گیند پر عبدالرزاق کو بھی صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔

عبدالرزاق سے جب ملتان کے ون ڈے میں سنچری کے بعد ان کی مایوس کن بولنگ کے بارے میں پوچھاگیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ اننگز کے درمیان میں رن روکنے کے لیے آتے ہیں کیونکہ وکٹیں اسٹرائیک بالرز لے اڑتے ہیں۔

عبدالرزاق اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی مایوس کن پرفارمنس کے بارے میں کیا کہیں گے یا کپتان انضمام الحق ان کا کس طرح دفاع کریں گے جس میں ان کا رول بیٹنگ میں معقول سکور کرنا اور بولنگ میں رن روکنا نہیں بلکہ وکٹیں حاصل کرنا ہے۔ آخری دس ٹیسٹ اننگز میں وہ صرف6 وکٹیں 11ء88 کی اوسط سے حاصل کرسکے ہیں اور بیٹنگ میں آخری دس اننگز میں انہوں نے کسی نصف سنچری کے بغیر صرف 252 رن بنائے ہیں۔

سری لنکن پیسر چمندا واس کو معین خان کی وکٹ حاصل کرنے میں دشواری نہیں ہوئی جو ایک رن پر کالووتھارنا کو آسان کیچ تھماگئے۔

معین خان کی مسلسل خراب فارم نے ان کے کریئر پر سوالیہ نشان لگا رکھا ہے اور انضمام الحق کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ انہیں ٹیم میں برقرار رکھیں یا پھر اسکواڈ میں شامل ذوالقرنین پر اعتماد کریں۔

کھانے کے وقفے پر پاکستان کا اسکور سات وکٹوں کے نقصان پر170 رن تھا شعیب ملک29 رن پر ناٹ آؤٹ تھے کھانے کے وقفے کے بعد چوتھے اوور میں محمد سمیع چھ رنز بناکر غیرضروری رن لیتے ہوئے اتاپتو کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔

شعیب ملک نے پہلی ٹیسٹ نصف سنچری دسویں چوکے کے ساتھ مکمل کی لیکن انہیں 59 کے اسکور پر ہیرتھ نے اپنی ہی گیند پر کیچ کرلیا۔

شعیب اختر12 رن بناکر ہیرتھ کی گیند پر کالووتھارنا کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوگئے۔

چوتھے دن دلہارار فرنینڈو نے چار وکٹیں حاصل کی تھیں آخری دن رنگانا ہیرتھ نے چار وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا۔ پہلی اننگز میں بھی انہوں نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

مین آف دی میچ ایوارڈ کے بجا طور پر حقدار جے سوریا تھے جنہوں نے 253 کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی جیت کی بنیاد رکھی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد