BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 October, 2004, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یونس خان کی شاندار سینچری

یونس خان
یونس خان نے بارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 124 رنز بنائے
پاکستان نے سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کی اپنی پہلی اننگز میں چار وکٹ کے نقصان پر 298 رنز بنائے ہیں۔

میچ کی خاص بات یونس حان کی شاندار سینچری تھی۔ انہوں نے بارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 124 رنز بنائے۔

ان کے علاوہ عمران فرحت 72 رنز بنانے کے بعد چمندا واس کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ جبکہ انضمام الحق 79 رنز پر کھیل رہے ہیں۔

چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ریاض آفریدی ہیں۔

اس سے قبل میچ کے پہلے روز شعیب اختر اور محمد سمیع کے بغیر پاکستانی بولنگ اٹیک نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 208 رنز پر آؤٹ کردیا۔

عبدالرزاق 35 رنز کے عوض5 وکٹوں کی متاثر کن کارکردگی کے ساتھ نمایاں رہے جو ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ ہے۔ کافی عرصے کے بعد ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے بولر کی حیثیت سے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ 2002 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ میں 24 رنز کے عوض 4 وکٹوں کی پرفارمنس کے بعد 17 اننگز میں یہ ان کی سب سے عمدہ بولنگ کارکردگی ہے۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ریاض آفریدی اور دانش کنیریا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

انضمام الحق نے ٹاس جیت کر پہلے سری لنکا کو بیٹنگ دینے کا فیصلہ کیا جو کپتان اتاپتو اور جے سوریا کے پراعتماد آغاز اور پاکستان کی ناتجربہ کار بولنگ کو دیکھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے غلط ثابت ہوتا دکھائی دیا۔ 66 کے اسکور پر سری لنکا کی پہلی وکٹ گری جب دانش کنیریا نے سنتھ جے سوریا کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ سنتھ جے سوریا جنہوں نے فیصل آباد ٹیسٹ میں253 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی اس مرتبہ 26 رنز بناسکے تاہم انہوں نے دو سنگ میل عبور کرلیے وہ 2004 میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں ہزار رنز مکمل کرنے والے چوتھے بیٹسمین بن گئے۔ ان سے قبل برائن لارا، کرس گیل اور رام نریش سروان اس سال ٹیسٹ میچوں میں ہزار یا اس سے زائد رنز اسکور کرچکے ہیں۔

سنتھ جے سوریا نے سری لنکا کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔ یہ ان کا 94 واں ٹیسٹ ہے۔ سابقہ ریکارڈ اروندا ڈی سلوا کا قائم کردہ تھا۔

ریاض آفریدی
ریاض آفریدی نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں ہی دو ووکٹ حاصل کیے

کپتان مرون اتاپتو کی وکٹ بھی دانش کنیریا کے حصے میں آئی جو44 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر بیٹ اینڈ پیڈ سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

کھانے کے وقفے کے بعد پاکستانی ٹیم کو چار کامیابیاں ملیں۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ریاض آفریدی نے کمار سنگاکارا کو13 رنز پر دانش کنیریا کے ہاتھوں کیچ کرا کر پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی اور پھر مہیلا جے وردھنے کو16 رنز پر انضمام الحق کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

فیصل آباد ٹیسٹ کے سنچری میکر سماراویرا 13 رنز بناکر عبدالرزاق کی گیند پر سلپ میں عمران فرحت کے ہاتھوں دبوچے گئے۔ اسی انفرادی اسکور پر عبدالرزاق نے جیہان مبارک کو یاسرحمید کے کیچ کے ذریعے پویلین کی راہ دکھائی۔

عبدالرزاق نے واس اور پرویز ماہروف کی وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اسطرح دیکھا جائے تو سری لنکا کی آٹھ وکٹیں 98 رنز کے اضافے پر گریں۔

سری لنکا کی آٹھ وکٹیں 164 رنز پر گرچکی تھیں لیکن کالووتھارنا اور ہیرتھ اسکور میں قیمتی44 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس شراکت کو دانش کنیریا نے کالووتھارنا کو54 رنز پر آؤٹ کرکے توڑا جس کے بعد ہیرتھ کو عبدالرزاق نے آؤٹ کردیا۔ اس سے قبل اپنے دوسرے اسپیل میں عبدالرزاق نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے پندرہ اوورز میں صرف بائیس رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

سری لنکا ایک تبدیلی کے ساتھ یہ ٹیسٹ کھیل رہی ہے۔ پرویز ماہروف کو لستھ مالنگا کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستانی ٹیم چار تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری۔ شعیب اختر، محمد سمیع، معین خان اور عاصم کمال کی جگہ ریاض آفریدی، رانا نوید الحسن، کامران اکمل اور یونس خان یہ میچ کھیل رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد