موسم: ’چھ دن کا میچ ہونا چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان کا کہنا ہے کا انہیں موسم کے سبب کھیل نہ ہونے کا افسوس ہے اسی لیے ہم نے پہلا میچ کراچی میں کرانے کا سوچا تھا لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے کہنے پر ہمیں پہلا میچ لاہور میں رکھنا پڑا اور موسم پر تو کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی سی سی کو درخواست کریں گے کہ ہمارے ہاں جہاں موسم ایسا ہوتا ہے ٹیسٹ میچ چھ دن کا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی سے ہم یہ بھی درخواست کریں گے کہ ٹیسٹ میچز کے لیے بھی کوئی ایسی گیند ہونی چاہیے جو مصنوعی روشنیوں میں بھی استعمال کی جا سکے۔ شہر یار خان نے کہا کہ ملبورن کرکٹ کلب کے صدر نے مجھے نارنجی رنگ کا ایک گیند بھیجا تھا۔ یہ گیند مصنوعی روشنی میں بھی استعمال ہو سکتا ہے اور ہم اپنی ڈومیسٹک کرکٹ میں اس کا استعمال کرنا چاہیں گے۔ اس سے پہلے پاک بھارت سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کم روشنی کے سبب صرف تہتر منٹ کا کھیل ہو سکا جس میں پندرہ اوور پھینکے جا سکے اور یوں پچھہتر اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔ کھیل شروع کرنے کا وقت صبح پونے دس ہوتا ہے لیکن صبح سویرے ہونے والی ہلکی بوندا باندی اورکم روشنی کے سبب کھیل پینتالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ صرف بارہ اوورز کے کھیل کے بعد پھر کم روشنی آڑے آئی اور کھیل روکنا پڑا۔ کھانے کے بعد پاکستانی وقت کے مطابق ایک بج کر پندرہ منٹ پر پھر میچ شروع ہوا اور صرف تین اوور ہی پھینکے جا سکے، لیکن پھر بادل گہرے ہی ہوتے گئے اور تین بج کر پچیس منٹ پر آج کا کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس میچ کے ایمپائرز ڈیرل ہئر روڈی کرٹزن کا کہنا ہے کہ قذافی سٹیڈیم میں لگی ہوئی مصنوعی روشنیوں سے ٹیسٹ میچ میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا کیونکہ مصنوعی روشنی میں سرخ بال صحیح طریقے سے بلے بازوں کو دکھائی نہیں دیتی اس لیے یہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے حق میں نہیں ہوتا ۔ ایمپائرز کے مطابق اگر میچ میں ایسی صورتحال ہو کہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم جیت رہی ہو اور یہ کہے کہ وہ کھیلنا چاہتے ہیں تو میچ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق میچ کے چوتھے اور پانچویں دن کا کھیل بارش کی نظر ہونے کا امکان ہے ۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||