سنسنی خیز میچ، پاکستان کی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے انگلینڈ کو چوتھے ون ڈے میچ میں ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد تیرہ رن سے شکست دے کر ون ڈے سیریز میں فیصلہ کن سبقت حاصل کر لی ہے۔ راولپنڈی میں کھیلے جا رہے میچ میں دو سو گیارہ رن کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم انچاسویں اوور میں ایک سو ستانوے رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی جیمز اینڈرسن تھے جنہیں شعیب اختر نے آؤٹ کیا جبکہ کبیر علی 39 رن پر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی نے تین، شعیب اختر اور رانا نوید نے دو ، دو جبکہ محمد سمیع اور ارشد خان نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کی جبکہ ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔ ایک موقع پر انگلینڈ کی ٹیم کے آٹھ کھلاڑی 114 رن پر آؤٹ ہو چکے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ پاکستانی ٹیم باآسانی یہ میچ جیت جائے گی لیکن پہلے این بلیک ویل اور پھر کبیر علی کی ذمہ دارانہ بلے بازی کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم میچ میں واپس آئی۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں لیئم پلنکٹ شاہد آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ گیرئنٹ جونز 12 رن بنا کر شاہد آفریدی کا دوسرا شکار بنے جبکہ اینڈریو فلنٹاف کو بھی شاہد آفریدی نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ اس سے پہلے پال کالنگ وڈ محمد سمیع کی گیند پر کیچ ہوئے۔ مارکس ٹریسکوتھک کو 23 کے انفرادی سکور پر پاکستان کے ’سپرسب‘ ارشد خان نے بولڈ کیا۔ اس سے قبل وکرم سولنکی شعیب اختر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ انہوں نے 6 رن بنائے۔
انگلینڈ کی طرف سے مارکس ٹریسکوتھک اور میتھیو پرائر نے اننگز کا آغاز کیا تھا اور چوتھے ہی اوور میں میتھیو پرائر رانا نوید الحسن کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ ان کی جگہ بیٹنگ کرنے کے لیے انے والے اینڈریو سٹراس کو پہلی ہی گیند پر رانا نوید نے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس سے قبل پاکستان کی ٹیم اڑتالیسویں اوور میں دو سو دس رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے کپتان انضمام الحق نے اپنے کیرئر کی بیاسیویں نصف سنچری مکمل کی۔ وہ اکیاسی رن پر ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کی جانب سے اینڈریو فلنٹوف، لیئم پلنکٹ، جیمز اینڈرسن اور کبیر علی نے دو، دو جبکہ پال کالنگ وڈ نے ایک وکٹ حاصل کی جبکہ ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی محمد سمیع تھے جو اینڈرسن کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ شعیب اختر کو صفر پر فلنٹوف نے آؤٹ کیا۔ رانا نوید الحسن کو کبیر علی گیند پر کالنگ وڈ نے کیچ کیا۔عبدالرزاق کو صفر پر لیئم پلنکٹ نے بولڈ کیا۔ شاہد آفریدی نے34 رن بنائے۔ انہیں بھی لیئم پلنکٹ نے ہی بولڈ کیا۔
شعیب ملک 22 رن بنا کر این بلیک ویل کی گیند پر سٹراس کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ شعیب ملک اور انضمام الحق کی شراکت میں پچاس رن بنے۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے بقیہ کھلاڑیوں میں محمد یوسف نے 11 رن بنائے۔ انہیں کبیر علی نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ کامران اکمل 18 رن بنا سکے اور انہیں انگلینڈ کے ’سپر سب‘ جیمز اینڈرسن نے بولڈ کیا۔ یونس خان ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور فلنٹاف کی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے بولڈ ہو گئے۔ سلمان بٹ وکرم سولنکی کی تھرو پر رن آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 15 رن بنائے۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور پاکستانی بلے بازوں نے جارحانہ انداز میں اننگز کا آغاز کیا تھا۔ سلمان بٹ نے اینڈریو فلنٹوف کے ایک اوور میں تین چوکے لگائے۔ تاہم انگلش بالر سات گیندوں میں تین پاکستانی وکٹ حاصل کر کے میچ میں واپس آئے۔ انگلش ٹیم نے میچ کے آغاز میں ہی ’سپر سب‘ کھلاڑی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور این بیل کی جگہ اب جیمز اینڈرسن کھیل رہے ہیں۔ پاکستان نے کراچی میچ جیتنے والی ٹیم ہی کھلانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ارشد خان کو ایک بار پھر سپر سب (بارہویں کھلاڑی) کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسری طرف انگلینڈ نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں۔ فاسٹ بالر سٹیو ہارمیسن ان فٹ ہونے کی وجہ ٹیم میں شامل نہیں ہیں جبکہ جیمز اینڈرسن کو سپر سب (بارہواں کھلاڑی) بنا دیا گیا ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی جگہ کبیر علی اور گزشتہ میچ کے سپر سب این بیل کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان: سلمان بٹ، کامران اکمل، یونس خان، محمد یوسف، انضمام الحق (کپتان)، شاہد آفریدی، شعیب ملک، عبدالرزاق، رانا نوید الحسن، محمد سمیع اور شعیب اختر اور ارشد خان (سپر سب)۔ انگلینڈ: مارکس ٹریسکوتھک، میتھیو پرائر، اینڈریو سٹراس، این بیل، وکرم سولنکی، اینڈریو فلنٹاف، کولنگ ووڈ، گیرانٹ جونز، بلیک ویل، لیام پلنکٹ، کبیر علی اور جیمز اینڈرسن (سپر سب)۔ | اسی بارے میں کراچی: پاکستان کی شاندار جیت15 December, 2005 | کھیل ’اب بھی جیت سکتے ہیں: پال کولنگوڈ16 December, 2005 | کھیل ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے: وان17 December, 2005 | کھیل ابھی سیریز جیتی نہیں ہے: انضمام15 December, 2005 | کھیل چوتھا میچ بہت اہم ہے: انضمام 18 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||