BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اب بھی جیت سکتے ہیں: پال کولنگوڈ

فریڈی فلنٹاف
فریڈی فلنٹاف کی جسمامت اب پہلے سے بہتر ہو گئی ہے: پال گولنگوڈ
جب شکست کراچی جیسی ہو توبہتر یہی ہے کہ آپ اسے بھولنے کی کوشش کریں۔کراچی میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی شکست سے ہم بہت مایوس ہوئے ہیں لیکن یہ ہمارے ایک موقع بھی ہے کہ ہم سیریز میں ایک دفعہ پھر واپس آئیں۔

جب سیریز شروع ہوئی تھی تو بس کی پچھلی سیٹ میرے ، کیون پیٹرسن، اور ایشلے جائلز کے لیے مخصوص تھی۔ اب صرف میں رہ گیا باقی دونوں زخمی ہو کر وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

اگر ہم بہانے بنانے چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ کپتان مائیکل وان، کیون پیٹرسن اور ایشلے جائلز کی غیر موجودگی سے ٹیم کی کارکردگی پر فرق پڑا ہے لیکن ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے ۔

اب بھی ہمارے پاس اتنی اچھی ٹیم ہے جس سے ہم ون ڈے سیریز جیت سکتے ہیں۔ ابھی دو میچ باقی ہیں اور سیریز میں پاکستان کو دو ایک سے برتری حاصل ہے۔

ہم اسی سال سترہ سال بعد ایشز سیریز جیتی ہے اور ہم اس سال کو ہار پر ختم نہیں کرنا چاہیں گے۔

لاہور میں ہونے والے پہلے ون ڈے میچ ہمارے بیٹسمینوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اگر ہم اسی طرح کی کارکردگی دہرائیں تو ہم سیریز جیت سکتے ہیں۔

شعیب اختر ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے سب سے کامیاب بولر ہیں۔ ان کو یہ کامیابی سخت ٹریننگ کی وجہ سے نصیب ہوئی ہے۔

شعیب اختر کی سلو گیند نے ہمارے لیے بہت مسائل پیدا کیے۔ پچانوے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے کرتے جب وہ اچانک ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کر دیتے ہیں تو بیٹسمینوں کو مشکل لاحق ہو جاتی ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ شعیب اختر نے فل ٹاس یا بیمر کرائی ہے جو آپ کے سینے کی اونچائی پر آ رہی ہے اور وہ گیند اچانک نیچے بیٹھ جاتی ہے اور اس پر بلے کو ایڈجسٹ کر نا بہت ہی مشکل کام ہے۔

پاکستان کے کئی بیٹسمین جن میں انضمام الحق سرفہرست ہیں، غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔اب عبد الزارق بھی ایسے بیٹسمینوں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی ٹیم پہلے اپنی بنیاد بناتی ہے اور اس کے بعد تیز کھیلنا شروع کرتی ہے ے ۔ پاکستان کی وکٹوں پر باولروں کو کوئی زیادہ مدد نہیں ملتی اور پاکستان بیٹمیسن تکنیکی طور پر اس طرح کی وکٹوں پر کھیلنے کے لیے موزوں ترین ہیں۔

ان حالات میں اگر ہم سیریز میں واپس آ جائیں تو یہ ہمارے لیے اطمینان کی بات ہو گی۔

چار سال پہلے انڈیا میں ہم اسی طرح کی صورتحال سے دوچار تھے اور چھ میچوں کی سیریز میں ایک تین سے ہار رہے تھے لیکن ہم نے آخری دو میچوں میں جیت کر سیریز برابر کر دی ۔ یہ فتح اتنی اہم تھی کہ فتح کی خوشی میں فریڈی فلنٹاف نے اپنی شرٹ ہی اتار دی تھی۔ چار سال بعد فریڈی کی جسمامت پہلے سے بہتر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد