ہدف ہار کی اصل وجہ تھی: انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے ہار کی وجہ تین سو اٹھائیس رنز کا ہدف قرار دیا۔ انضمام نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک بیٹنگ وکٹ تھی اس کے باوجود اتنے بڑے ہدف کو حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آخری بارہ اوورز میں پاکستان بولروں نے زیادہ رنز دیے جس کی بنا پر انگلینڈ کی ٹیم زیادہ رنز بنا سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہار کے باوجود میں اپنے بیٹسمینوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں کیونکہ انہوں نے اچھی کوشش کی۔انہوں نے کہا جب یونس خان اور سلمان بٹ کھیل رہے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ہم اس بڑے ہدف کو حاصل کر لیں گے لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد یہ ہمارے لیے مشکل ہو گیا۔ انضمام الحق کے مطابق بیٹنگ وکٹ تھی اور نہ ہی میچ کے آخری گھنٹے میں وکٹ پر کوئی نمی تھی اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ٹاس نے نتیجے میں کوئی کردار ادا کیا۔ البتہ سپر سب کے قانون سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹاس کا جیتنا اہم ہوتا ہے اور سپر سب کا فائدہ صرف ٹاس جیتنے والی ٹیم ہی اٹھا سکتی ہے۔ سپر سب کے قانون کے تحت یہ پاکستان کا پہلا میچ تھا۔اور پاکستان کی ٹیم نے ارشد خان کو سپر سب کے طور پر کھلایا۔انضمام کا کہنا تھا کہ اگر ہم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے تو اس قانون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ارشد خان کی بالنگ کو استعمال کر سکتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ انضمام نے امید ظاہر کی کہ وہ اگلے چار میچوں میں اچھا کھیل پیش کر کے انہیں جیتنے کی کوشش کریں گے |
اسی بارے میں انضمام الحق کے ستارے کیا کہتے ہیں18 November, 2005 | کھیل ملتان ٹیسٹ میں انضمام کےلئے چیلنج11 November, 2005 | کھیل انضمام نےمیانداد کا ریکارڈ برابرکردیا21 November, 2005 | کھیل ’انضمام کا رن آؤٹ متنازعہ تھا‘21 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کے لیے پانچ لاکھ کا انعام24 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کے آٹھ ہزار رن02 December, 2005 | کھیل انضمام الحق کو کس کا انتظار ہے؟ 02 December, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||