کراچی: پاکستان کی شاندار جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کامران اکمل کی لگاتار دوسری سنچری اور عبدالرزاق کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاک انگلینڈ سیریز کے تیسرے ایک روزہ میچ میں پاکستان نےانگلینڈ کو ایک سو پینسٹھ رن سے شکست دے دی ہے۔ مہمان ٹیم پاکستان کے تین سو تریپن کے جواب میں بیالیس اوور میں صرف ایک سو اٹھاسی رن بنا سکی۔ کامران اکمل کو لگاتار دوسری سنچری بنانے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا اور اس فتح کے بعد پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو دو ایک سے برتری حاصل ہوگئی ہے۔ انگلنڈ کی ٹیم اپنی اننگز کے آغاز میں ہی اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئی۔ جب میتھویو پرائر کے رن آؤٹ ہونے کے بعد رانا نوید الحسن نے تین گیندوں میں انگلینڈ کے کپتان مارکس ٹریسکوتھک اور وکرم سولنکی کو آؤٹ کر دیا۔ انگلش ٹیم کا سکور پچاس تک پہنچنے سے پہلے ہی انگلینڈ کے تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ شاہد آفریدی نے بھی چودہ گیندوں پر اکتیس رن بنانے کے بعد زبردست بالنگ کا مظاہرہ کیا اور دس اوور میں بیالیس رن دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ شعیب ملک نے نو اوور میں انتیس رن دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ شعیب اختر جنہوں نے لاہور کے میچ میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا آج کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ متبادل کھلاڑی یاسر عرفات نے انگلینڈ کے آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف کو بولڈ کیا۔ پاکستان کی جانب سے رانا نوید الحسن، شعیب ملک اور شاہد آفریدی نے دو ، دو اور محمد سمیع اور یاسر عرفات نے ایک ، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا جبکہ ایک کھلاڑی شعیب اختر کی تھرو پر رن آؤٹ ہوا۔ اس سے قبل پاکستان نے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کی شاندار سنچری اور عبدالرزاق، آفریدی اور انضمام کی دھواں دار بیٹنگ کی بدولت انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے تین سوچون رن کا ہدف دیا۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈم میں چالیس ہزار سے زیادہ تماشائیوں کی موجودگی میں پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف چھ کھلاڑیوں کے نقصاں پر تین سو تریپن رن بنائے جو ایک روزہ میچوں میں انگلینڈ کے خلاف اس کا سب سے زیادہ سکور ہے۔ پاکستان کی اننگز کی سب سے نمایاں بات عبدالرزاق کی ناقابل شکست نصف سنچری تھی انہوں نے یہ نصف سنچری صرف بائیس گیندوں پرمکمل کی۔ عبدالرزاق نے اپنے اکاون رن میں پانچ چوکے اور تین چھکے لگائے۔ عبدالرزاق کا ایک چھکا نیشنل سٹیڈیم کے ظہیر عباس اسٹینڈ کی چھت پر جا کر لگا۔ جیمز اینڈرسن کے ایک اوور میں انضمام نے ایک اور عبدالرزاق نے دو چھکے اور ایک چوکا لگا کر تیئس رن بنائے۔
انضمام الحق نے 35 گیندوں پر 45 رن بنائے اور وہ فلنٹاف کی گیند پر آخری اوور میں بولڈ ہوئے۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں انگلینڈ کے کپتان ٹریسکوتھک نے ٹاس جیتنے کی ہٹ ٹرک مکمل کی اور اس مرتبہ انہوں نے پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی تھی۔ ایک روشن دن جب میدان میں چاروں طرف دھوپ نکلی ہوئی تھی ٹریسکوتھک کا یہ فیصلہ پاکستان کو ایک کم سکور پر روکنے میں کارگر ثابت نہیں ہوا۔ شاہد آفریدی کی ٹیم میں واپسی کے باوجود کپتان انضمام اور مینیجر باب ولمر نے کامران اکمل اور سلمان بٹ سے ہی اوپننگ کرانے کا فیصلہ کیا۔ کامران اکمل اور سلمان بٹ نے پر اعتماد انداز میں کھیل کا آغاز کیا اور سکور کو بغیر کسی نقصان کے 74 رن تک پہنچا دیا۔ اس موقع انگلینڈ کے بالر لیئم پلنکٹ نے سلمان بٹ کو آؤٹ کر دیا۔ سلمان بٹ کا کیچ فلنٹاف نے لیا۔ اس کے بعد پلنکٹ ہی کی گیند پر یونس خان بغیر کوئی رن بنائے وکٹ کے پیچھے کیچ ہوگئے۔
اس وقت پاکستان کا سکور 84 رن تھا۔ یونس خان کی وکٹ گر جانے کے بعد محمد یوسف کھیلنے آئے۔ دو وکٹ گرنے کے باوجود کامران اکمل اپنے مخصوص انداز میں کھیلتے رہے۔ انہوں نے اپنے پچاس رن تریپن گیندوں پر مکمل کیے جس میں چھ چوکے بھی شامل تھے۔ کامران اکمل جنہیں انگلش بالروں کو کھیلنے میں کوئی دقت پیش نہیں آ رہی تھی ایک آسان پچ پر اپنی مرضی سے شاٹس کھیلتے رہے۔ کامران نے اپنی سنچری ایک سو پانچ گیندوں میں مکمل کی لیکن سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد وہ کالنگ وڈ کی ایک گیند پر لانگ آن پر ایک اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے پلنکٹ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔انہوں نے اپنی سنچری میں بارہ چوکے لگائے۔ کامران اکمل اور محمد یوسف کی شراکت میں 98 گیندوں پر ایک سو چار رن بنے۔
کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد تماشائیوں کے زبردست نعروں میں شاہد آفریدی میدان میں آئے۔ ان کے میدان میں آتے ہی تماشیوں کے جوش خروش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ نعروں کی آوازوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ شاہد آفریدی کا کھیل دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی بے تابی دیدنی تھی۔ آفریدی بھی کراچی کے تماشائیوں کو مایوس کرنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے انگلش بالروں کی گیندوں پر دلکش شاٹس لگانے شروع کر دیے۔ اننگز کے سینتیسویں اوور میں انہوں نے اینڈریو فلنٹاف کو ایک چوکا اور دو چھکے لگائے۔ انہوں نے ابھی اکتیس رن ہی بنائے تھے جب وہ محمد یوسف کی کال پر ایک تیز رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ آفریدی کے آؤٹ ہونے سے تماشائیوں میں زبردست مایوسی پھیل گئی اور انہوں نے محمد یوسف کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔آفریدی کے صرف چودہ گیندوں پر بنائے گئے اکتیس رن میں تین چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں تیسرے ایک روزہ میچ میں انگلینڈ کے خلاف پاکستا ن کی طرف سے تین سو تریپن رن کا سکور کسی بھی ٹیم کا انگلینڈ کے خلاف سب سے بڑا سکور ہے۔ جبکہ ایک روزہ میچوں میں پاکستان کا سب سے زیادہ سکور تین سو اکہتر رن کا ہے جو اس نے نیروبی میں کینیا کے خلاف بنائے تھے جس میں شاہد آفریدی کی ریکارڈ سنچری بھی شامل تھی۔ پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کی ٹیم |
اسی بارے میں کراچی میچ کے لیے سخت سکیورٹی 15 December, 2005 | کھیل شاہد آفریدی ٹیم میں واپس آگئے12 December, 2005 | کھیل پیٹرسن زخمی ہو کر وطن واپس13 December, 2005 | کھیل سکیورٹی ایک خاتون ہار گئی 13 December, 2005 | کھیل پاکستان دوسرا ون ڈے میچ جیت گیا11 December, 2005 | کھیل انگلینڈ نے پاکستان کو ہرا دیا10 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||