پاکستان دوسرا ون ڈے میچ جیت گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف لاہور میں ہونے والا دوسرا ون ڈے میچ بڑے مارجن سے جیت کر پانچ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی ہے۔ پاکستان کی جیت میں فاسٹ شیعب اختر اور وکٹ کیپر بیٹسمیں کامران اکمل کی شاندار بیٹنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے انگلینڈ کی طرف 231 رنز کا ہدف چوالیس اوروں میں تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق 30 رنز اور محمد یوسف اٹھائیس رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ سلمان بٹ، اور کامران پاکستان کی اننگز کا آغاز شاندار انداز میں کیا اور پاکستان کی پہلی وکٹ چھیاسی رنز گری جب سلمان بٹ تینتالیس رنز بنا کر اینڈریو فلنٹاف کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔ جبکہ یونس خان پندرہ رنز بنا کر پال کولنگ وڈ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ کامران اکمل 102 رنز بنا کر سٹیو ہارمیسن کا شکار بنے۔ اس سے پہلے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے وکرم سولنکی اورلینم پلنکٹ کی شاندار سو رن کی شراکت کی مدد سے اڑتالیس عشاریہ چار اوور میں دوسوتیس رن بنائے اور پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 231 رنز کا ہدف دیا۔ انگلینڈ کی ٹیم اننگز کے آغاز میں مشکلات کا شکار ہو گئی تھی لیکن متبادل کھلاڑی وکرم سولنکی نے پلنکٹ کے ساتھ نویں وکٹ کی شراکت میں ایک سو رن بنا کر انگلینڈ کو کسی حد تک مشکلات سے نکال دیا۔ پلنکٹ، جنہوں نے گزشتہ میچ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور تین وکٹیں حاصل کی تھیں، اس اننگز میں اچھی بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھپن رن بنائے۔ انہیں شعیب اختر نے اپنی ہی گیند پر کیچ آوٹ کیا۔ سولنکی نے39 رن بنائے اور آوٹ نہیں ہوئے۔ پاکستان کی طرف سے شعیب اختر نے اچھی بالنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کی اور انہوں نےچون رن دیے۔ شعیب کے علاوہ رانا نوید الحسن نے دو اور عبدالرزاق اور دانش کنیریا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ انگلینڈ کے آخری کھلاڑی ہارمیسن کوئی رن بنائے بغیر رن آؤٹ ہو گئے۔ انگلینڈ کی طرف سے کپتان مارکس ٹریسکوتھک اور میتھیو پرائر نے اننگز کا آغاز کیا اور پہلے پانچ اوور میں وہ بڑے اعتماد سے کھیلتے رہے لیکن شعیب اختر نے اپنے چوتھے اوور میں کپتان مارکس ٹریسکوتھک کو بولڈ کرکے اور اسی اوور میں اینڈریو سٹراس کو وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ کر کے انگلینڈ کی ٹیم کو مشکلات کا شکار کر دیا۔ اینڈریو سٹراس نے پہلے ایک روزہ میچ میں شاندار بیٹنگ کی تھی اور چورانوے رن بنائے تھے اور اسی کارکردگی کی بنا پر مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔ اینڈریو سٹراس کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کی جگہ پیٹرسن کھیلنے آئے اور رانا نوید الحسن کے اگلے ہی اوور میں انہوں نے لگاتار چار چوکے لگائے۔ پیٹرسن بڑے جارحانہ موڈ میں نظر آرہے تھے لیکن وہ بھی تھوڑی دیر ہی میں رانا نوید کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ پیٹرسن نے صرف ستائیس گیندوں کا سامنا کیا اور وہ اکتیس منٹ میدان میں رہے۔ انہوں نے اس دوران چھ چوکے لگائے۔ کیون پیٹرسن کی جگہ انگلینڈ کے ایک اور جارحانہ بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی اینڈریو فلنٹاف کھیلنے آئے اور وہ رانا نوید کی ایک گیند کو پل کرتے ہوئے متبادل کھلاڑی یاسر حمید کو ایک آسان کیچ دے بیٹھے۔ فلنٹاف کے آؤٹ ہونے سے انگلینڈ کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو گیا۔ فلنٹاف کے بعد بیسویں اوور میں میتھیویو پرائر عبدالرزاق کی ایک گیند پر بولڈ ہوگئے۔ پرائرنے بتیس رن بنائےاور چھیانوے منٹ تک وہ میدان میں رہے۔ اس دوران انہوں نے تینتیس گیندوں کا سامنا کیا۔ انہوں نے چھ چوکے لگائے۔ شعیب اختر نے اپنے پہلے سپیل میں پانچ اوور کیے اور پچیس رن دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ رانا نوید نے پہلے آٹھ اوور کیے اور بیالیس رن دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد سمیع کے پہلے سپیل کے بعد انضمام نے شعیب اختر کو دوبارہ بالنگ کرنے کو کہا۔ دوسرے سپیل کے پہلے ہی اوور میں شعیب نےگرینٹ جونز کو وکٹ کے پیچھے کیچ آوٹ کر دیا۔ اسی اوور میں کولنگ ووڈ کا ایک کیچ شعیب ملک پوری کوشش کے بعد بھی پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ شعیب اختر نے اگلے ہی اوور میں بلیک ویل کو بڑے دلکش انداز میں بولڈ کر دیا۔ بلیک ویل دس رن بنا سکے۔ انہوں نے چھ گیندوں کا سامنا کیا اور دو چوکے لگائے۔ شیعب نے دوسرے سپیل میں صرف دو اوور کیے اور اٹھارہ رن کے عوض دو کھلاڑیوں کوآؤٹ کیا۔ تیس اوور کے بعد انضمام نے کنریا کو گیند کرنے کو کہا اور انہوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں کولنگ ووڈ کو اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کر دیا۔ کولنگ ووڈ صرف تیس رن بناسکے اور انہوں نے تریپن گیندیں کھیلیں۔ اس موقع پر انگلینڈ نے اپنے سپر سب یا متبادل کھلاڑی وکرم سولنکی کو کھیلنے کے لیے بھیجا۔ مارکس ٹریسکوتھک کا ایک فیصلہ درست ثابت ہوا اور انگلینڈ کی ٹیم نے دوسو اکتیس کا ہدف قائم کیا۔ آج پاکستان کے خلاف اس دوسرے ایک روزہ میچ کے لیے انگلینڈ کے کپتان مارکس ٹریسکوتھک نے ٹاس جیت کرپہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سنیچر کے روز بھی پہلے ایک روزہ میچ میں بھی مارکس ٹریسکوتھک نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس میچ میں بیالیس رن سے کامیابی حاصل کر لی تھی۔ پاکستان کی ٹیم میں آج دوسرے ایک روزہ میچ کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی جبکہ انگلینڈ کی ٹیم نے صرف سپر سب تبدیل کیے ہیں اور وکرم سولنکی کو سپر سب کے طور پر کھلایا جا رہا ہے اور ان کی جگہ لیم پلنکٹ ریگولر کھلاڑی کے طور پر کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کی ٹیم | اسی بارے میں ’جیت کے لیےمحنت کرناہوگی‘09 December, 2005 | کھیل انگلینڈ: دورہ بھارت کے حتمی مقامات08 December, 2005 | کھیل پرائر اوپننگ کے لیے پر امید08 December, 2005 | کھیل ’انگلینڈ پراب نفسیاتی دباؤ ہوگا‘ 07 December, 2005 | کھیل وان ایک روزہ میچوں سے باہر06 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||