BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 December, 2005, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرائر اوپننگ کے لیے پر امید
میٹ پرائر
جب مجھے موقع ملے گا میں اس سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا
انگلینڈ کے میٹ پرائر لاہور میں کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ میچ میں اپنی ٹیم کی طرف سے اوپن کرنے کے لیے پر امید ہیں۔

پرائر نے پاکستان اے کے خلاف بدھ کے وارم اپ میچ میں بیٹنگ لائن کے شروع میں کھیلتے ہوئے 72 رنز بنائے۔

ایسیکس سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ کھلاڑی کا کہنا ہے کہ ’میں انگلینڈ کے لیے کسی بھی جگہ پر کھیلنے میں خوش ہوں لیکن اگر میں بیٹنگ کا آغاز کروں تو مجھے بہت اچھا لگے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ ایسی جگہ ہے جہاں کھیلنا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، خاص طور پر ایک روزہ میچ میں‘۔

پرائر محدود اوورز کے میچوں میں اپنی کاؤنٹی کے لیے باقائدگی سے اوپن کرتے ہیں اور ان کے خیال میں یہ زیادہ سکور کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنا قدرتی کھیل اس جگہ پر کھیلتا ہوں۔ نیا گیند تھوڑا سا تنگ کرتا ہے لیکن جب آپ اس مرحلے سے گزر جائیں تو بڑا سکور کر سکتے ہیں‘۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کچھ اس طرح کی کہ ’ شروع میں آپ کے پاس حملہ کرنے کا موقع بھی ہوتا ہے جب آپ نئی گیند پر قابو پا لیں۔ اس کے بعد آپ زیادہ رنز بنا سکتے ہیں‘۔

انگلینڈ کے ریگولر وکٹ کیپر تینوں ٹیسٹ میچوں میں کھیلے تھے لیکن ون ڈے کے لیے پرائر کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

پرائر نے اپنی پوزیشن کے بارے میں کہا کہ ’میں بالکل نہیں جانتا، یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے اور جب مجھے موقع ملے گا میں اس سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کروں گا‘۔

میٹ پرائر
شروع میں آپ کے پاس حملہ کرنے کا موقع بھی ہوتا ہے

اسی دوران پاکستان کے کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ٹیسٹ سیریز میں دو صفر سے جیت کر ایک روزہ میچوں کے لیے فیورٹ نہیں ہو گئی ہے۔

میزبان ٹیم پچھلے سات ایک روزہ میچ جیت چکی ہے لیکن وولمر نے کہا کہ ’ہم نے ساڑھے تین ماہ سے ایک روزہ کرکٹ نہیں کھیلی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کھیل میں اگر آپ ایک چیز کو چھوڑ کر دوبارہ شروع کریں تو اسے کسی حد تک دوبارہ سیکھنا پڑتا ہے۔ ہم سیریز کو برابر چانس سمجھ کر کھیلیں گے۔ میں نفسیاتی برتری میں یقین نہیں رکھتا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹیم جیت رہی ہے اور جیت سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ ایک نیا ٹورنامنٹ ہے‘۔

کپتان انضمام الحق کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد کے آنے کی توقع ہے۔ اس میچ کی ٹکٹوں سے ہونے والی آمدنی زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے وقف کر دی گئی ہے۔

انضمام نے کہا کہ ’میں کرکٹ کے شائقین سے درخواست کرتا ہوں کہ سٹیڈیم کو بھر دیں تاکہ ایک بڑی رقم جمع ہو سکے۔ زلزلے سے بچ جانے والے سردی اور برفباری کا شکار ہو چکے ہیں، اس لیے ہمیں ان کے لیے مزید کوششیں کرنی ہیں‘۔

پاکستان نے ٹیسٹ سیریز کی آمدنی کا دس فیصد زلزلہ زدگان کے لیے قائم کیے گئے ریلیف فنڈ میں جمع کروایا ہے، جبکہ انگلینڈ کی ٹیم نے اس مقصد کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ جمع کروائے ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے لاہور میں گالف ایک کی تقریب میں بھی شرکت کی جس سے تقریباً تیس ہزار پاؤنڈ کی رقم جمع ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد