’جیت کے لیےمحنت کرناہوگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اگر چہ پاکستان کی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز جیتنے سے اعتماد حاصل ہوا ہے لیکن ایک روزہ سیریز میں جیت آسان نہیں جیتنے کے لیے بہت محنت کرنا ہو گی۔ یہ بات انہوں نے ایک روزہ سیریز سے پہلے کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ انضمام کے علاوہ انگلینڈ ٹیم کے کپتان مارکس ٹریس کوتھک نے بھی پریس کانفرنس کی۔ انضمام الحق نے کہا کہ’ایک روزہ کرکٹ ٹیسٹ کرکٹ سے مختلف ہوتی لہذا یہ کہنا کہ ٹیسٹ میچز جیتنے کے بعد ہم آسانی سے ایک روزہ میچز بھی جیت جائیں گے درست نہیں‘۔ ان کے بقول’انگلینڈ کی ٹیم ایک تجربہ کار اور بڑی ٹیم ہے اور ایسی ٹیم کسی وقت بھی کم بیک کر کے حریف ٹیم کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے اس لیےمیں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہم یہ سیریز جیت لیں گے‘۔ انضمام جنہوں نے ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے پہلے متعدد بار انگلینڈ کی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا تھا۔ ٹیسٹ سیریز جیتنے کے باوجود انہوں نے انگلینڈ کی ٹیم کو ایک روزہ سیریز کے لیے فیورٹ کہا تاہم ایسا کہتے ہوئے وہ مسکرائے ضرور۔ انضمام الحق نے تسلیم کیا کہ پہلے دو ایک روزہ میچوں میں شاہد آفریدی کی کمی محسوس کی جائے گی کیونکہ وہ ناصرف اچھے بیٹسمین ہیں بلکہ اچھے بالر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک کوپہلے ون ڈے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاہم یہ ان پر بھی منحصر ہے کیونکہ وہ تین دن میں آسٹریلیا جا کر واپس آئے ہیں اور اگر وہ کھیل سکے تو انہیں ضرور ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ انضمام نے کہا کہ لگاتار تین ٹیسٹ کھیل کراگر چہ کھلاڑی کچھ تھک گئے تھے لیکن کچھ دن کا وقفہ ملنے سے دوبارہ چارج ہو گئے ہیں۔ یہ ایک روزہ سیریز سپر سب کے قانون کے ساتھ کھیلی جا رہی ہے جس کے تحت بارہواں کھلاڑی بھی وقت ضرورت بالنگ یا بیٹنگ کر سکتا ہے۔ انضمام نے کہا کہ اس قانون کے تحت میچ کھیلنے کے بعد ہی اندازہ ہو سکے گا کہ اس سے فائدہ ہوتا ہے یا نقصان۔ سنیچر کو ہونے والا یہ میچ خلاف معمول صبح گیارہ بجے شروع گا اور شام سات بجے ختم ہوگا۔ اس لیے آخری چند گھنٹوں کا کھیل فلڈ لائٹس میں ہو گا۔ انضمام کے بقول میچ کے اس اوقات سے اگرچہ فائدہ ہو گا اور صبح کے وقت ہوا میں موجود نمی سے بچا جا سکے گا لیکن پھر بھی آخری گھنٹے میں ہونے والی نمی سے فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو مشکلات ہو سکتی ہیں اس لحاظ سے ٹاس کچھ کردار ادا کر سکتا ہے۔
مائیکل وان انجری کے سبب انگلینڈ واپس روانہ ہو چکے ہیں ان کی جگہ ٹریسکوتھک انگلینڈ ٹیم کی قیادت کریں گے۔ ٹریسکوتھک کا کہنا ہے کہ’اگرچہ ٹیسٹ سیریز ہارنا ہماری ٹیم کے لیے مایوس کن ہے لیکن ہم پر امید ہیں کہ ہم ایک روزہ سیریز جیت لیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ’اگرچہ دوسرے ملک میں ایک اچھی ٹیم کے خلاف جیتنا قدرے مشکل ہوتا ہے تاہم ہم اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ آئی سی سی کی رینکنگ میں ٹاپ چھ ٹیموں میں رہنے کے لیے بھی انہیں اس سیریز میں کامیابی حاصل کرنا انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سیریز جیت کر وہ اپنی بہتر رینکنگ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ |
اسی بارے میں انضمام الحق کے ستارے کیا کہتے ہیں18 November, 2005 | کھیل ملتان ٹیسٹ میں انضمام کےلئے چیلنج11 November, 2005 | کھیل انضمام نےمیانداد کا ریکارڈ برابرکردیا21 November, 2005 | کھیل ’انضمام کا رن آؤٹ متنازعہ تھا‘21 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کے لیے پانچ لاکھ کا انعام24 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کے آٹھ ہزار رن02 December, 2005 | کھیل انضمام الحق کو کس کا انتظار ہے؟ 02 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||