ظفر گوہر: تین بسیں تبدیل کر کے اکیڈمی آنے والا ’جنونی کرکٹر‘ کون ہے؟

ظفر گوہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images/PCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ قدرتی سی بات ہے کہ اگر کسی کرکٹر کو یہ پتا چل جائے کہ اسے ٹیسٹ کیپ دی جا رہی ہے تو خوشی میں اس کی نیند ہی ُاڑ جاتی ہے لیکن لیفٹ آرم اسپنر ظفرگوہر کے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ وہ سوتے رہ گئے تھے اور ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا کا موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

اس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ اکتوبر 2015 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز شروع کرنے والی تھی۔ لیگ سپنر یاسر شاہ کے ان فٹ ہو جانے کے نتیجے میں کپتان مصباح الحق نے لیفٹ آرم اسپنر ظفرگوہر کو ابوظہبی کو بھیجنے کی درخواست کی۔

ویزا اور تمام سفری تیاریاں مکمل تھیں لیکن جنہیں سفر پر روانہ ہونا تھا ان کا پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں؟۔ معلوم ہوا کہ ظفرگوہر سوتے رہ گئے اور فلائٹ چلی گئی۔

ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم ایک ریگولر اسپنر ذوالفقار بابر کے ساتھ میدان میں اتری تھی جس پر مصباح الحق سخت خفا تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ابوظہبی کی وہ فلائٹ مس کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد ظفر گوہر نے انگلینڈ ہی کے خلاف شارجہ میں اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کریئر کی ابتدا کی تھی اور اس میچ میں وہ ایلکس ہیلز اور جو روٹ کی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ظفرگوہر کو اب پانچ سال بعد ٹیسٹ کریئر شروع کرنے کا موقع ملا ہے لیکن اس بار وہ حریف بیٹسمینوں کی نیندیں اڑانے کے بارے میں پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین دوسرے ٹیسٹ سے قبل انھیں یاسر شاہ کی جانب سے ٹیسٹ کیپ دی گئی۔ ظفر گوہر نے اپنی پہلی ہی اننگز میں مایوس نہیں کیا اور پاکستان کے لیے قیمتی 34 رنز بنائے جس کے باعث پاکستان نے 297 کا ٹوٹل بنا لیا۔

ظفر گوہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تین بسیں تبدیل کرکے اکیڈمی پہنچنا

پچیس سالہ ظفرگوہر کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی کرکٹ ماڈل سکول میں شروع کی جہاں ان کے ٹیچر نصیر صاحب نے ان کی حوصلہ افزائی کی تاہم ظفر گوہر کو صحیح معنوں میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر نکھارنے کا موقع اس وقت ملا جب وہ شفقت رانا کرکٹ اکیڈمی میں شامل ہوئے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر شفقت رانا بتاتے ہیں ʹجب ظفر گوہر نے اکیڈمی میں آنا شروع کیا تو اس وقت اس کی عمر صرف 12 سال تھی لیکن ہم کھیل سے اس کا جنون دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کیونکہ اس کی رہائش شالامار گارڈن سے تین میل دور تھی اور لاہور کی سخت گرمی میں وہ تین بسیں تبدیل کر کے وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی اکیڈمی پہنچ جایا کرتا تھا۔ʹ

شفقت رانا کہتے ہیں کہ ʹظفرگوہر کا تعلق غریب گھرانے سے تھا لہٰذا میں اس سمیت اکیڈمی کے چند باصلاحیت لڑکوں کو مالی سہولتیں بھی فراہم کرتا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ مالی مشکلات کے سبب ظفرگوہر کرکٹ کھیلنا چھوڑ دے۔ وہ ایک مکمل پیکج تھا خصوصًا اس کی فیلڈنگ بہت اچھی ہوا کرتی تھی۔‘

شفقت رانا کو اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی اکیڈمی کے دو کرکٹرز عابد علی اورظفر گوہر ایک ساتھ ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

خود ظفر گوہر شفقت رانا کا ذکر بڑے احترام سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رانا صاحب نے انھیں بیٹوں کی طرح رکھا اور قدم قدم پر رہنمائی کی۔

ظفر گوہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈر15 سے انٹرنیشنل کرکٹ تک سفر

ظفرگوہر نے انٹرنیشنل کرکٹ تک آنے کے لیے تمام مراحل عبور کیے ہیں۔ انھوں نے 2008 میں ویسٹ انڈیز میں منعقدہ انڈر 15 چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور دس وکٹیں حاصل کیں۔

وہ 2012 اور 2014 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے علاوہ انڈر 19 ایشیا کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ 2013 میں پاکستانی انڈر19 ٹیم کے دورۂ انگلینڈ میں انگلینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ کھیلی گئی سہ فریقی سیریز میں وہ 18 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے تھے۔

ظفرگوہر کا انڈر 19 ون ڈے کرکٹ میں ریکارڈ متاثرکن رہا ہے ۔ وہ تین سیزن کھیل کر27 میچوں میں 41 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ظفرگوہر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 2013 میں کیا تھا۔ کرائسٹ چرچ ٹیسٹ سے قبل تک وہ 39 فرسٹ کلاس میچوں میں144 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جن میں گزشتہ سال سینٹرل پنجاب کی طرف سے ناردن کے خلاف 79رنز دے کر7 وکٹوں کی بہترین انفرادی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ اس میچ میں انہوں نے مجموعی طور پر11 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

ظفرگوہر نے نیوزی لینڈ کے ڈینیئل ویٹوری سے متاثر ہوکر کرکٹ شروع کی تھی اور وہ انہی کی طرح بیٹنگ اور بولنگ میں نمایاں دکھائی دینا چاہتے ہیں۔

ظفرگوہر ایک قابل بھروسہ بیٹسمین بھی ہیں جس کی ایک جھلک انہوں نے کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں 34رنز کی اننگز کھیل کر دکھائی۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں بھی بناچکے ہیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جادوئی گیند پر ڈیرن سیمی کو بولڈ

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی اسلام آْباد یونائٹڈ سے وابستہ ریحان الحق کہتے ہیں ʹجب ظفرگوہر پی ایس ایل تھری میں آئے تھے تو انہیں کندھے کی تکلیف تھی اور وہ خاصے پریشان تھے کہ وہ میچ کھیل پائیں گے یا نہیں؟

’لیکن پشاور زلمی کے خلاف ان کا ڈیبیو بہت زبردست رہا تھا ۔ اس میچ میں انھوں نے تین وکٹیں حاصل کی تھیں خاص کر ڈیرن سیمی کو جس طرح بولڈ کیا وہ کمال کی گیند تھی جو مڈل پر گری اور آف سٹمپ اڑا گئی آپ اسے میجک بال کہہ سکتے ہیں۔‘

ریحان الحق کا کہنا ہے ʹظفر گوہر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں صبر ہے۔ بہت زیادہ محنتی ہیں۔ اگر کبھی ٹیم میں جگہ نہ بنے تو ہمت نہیں ہارتے اور نہ مایوس ہوتے ہیں۔ ڈریسنگ روم میں ہنس مکھ ہے اور ساتھی کھلاڑیوں کو ہر وقت ہنساتا رہتا ہے۔‘

ریحان الحق کہتے ہیں ʹظفر گوہر کو آج بھی اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ پانچ سال قبل وہ فلائٹ مس کرنے کی وجہ سے اس وقت ٹیم کے کام نہ آ سکے لیکن یہ قرض وہ ایک دن اتار کر رہیں گے اور جو لوگ ان کا مذاق اڑاتے رہے ہیں انھیں اپنی کارکردگی سے غلط ثابت کریں گے۔‘

ظفر گوہر پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف ظفرگوہر کی صلاحیتوں کے متعرف دکھائی دیتے ہیں انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے ’پہلے گوہر تھا، بنا اب گوہرِ نایاب تو۔‘