سمیع چوہدری کا کالم: فواد عالم کے گیارہ سال اور یہ ساڑھے چھ گھنٹے

فواد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

قائم چاند پوری نے کہا تھا:

قسمت کی خوبی دیکھیے، ٹوٹی کہاں کمند

دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

عین قریب تھا کہ پاکستان وقت سے دو ہاتھ آگے نکل جاتا اور ایک یقینی فتح نیوزی لینڈ کو چکمہ دے جاتی۔ سارے سوالوں کا رُخ پاکستانی بیٹنگ سے پلٹ کر کیوی بولنگ کی طرف ہو جاتا اور پہلے تین دن کی کمیوں، کوتاہیوں، خامیوں کے باوجود پاکستان اس میچ سے ناقابلِ شکست آگے بڑھ جاتا۔

جس ہمت اور جرات کا مظاہرہ پاکستان نے آخری دن کیا، اس کا عشرِ عشیر بھی اگر تیسرے دن کر لیا جاتا تو بعید نہ تھا کہ ڈرا ہی اس میچ کا نتیجہ ہوتا۔

مگر تیسرے دن کی وکٹ مشکل تھی۔ بولرز کے لیے دلچسپی کے بہت سامان تھے اور بلے بازوں سے آہنی عزم درکار تھا۔ نامانوس کنڈیشنز میں اگر پاکستانی بلے باز ایسی مہارت دکھا جاتے تو یہ کہنا غلط نہ ہوتا کہ چار سال قبل کھوئی گئی عظمتِ رفتہ واپس پاکستانی ڈریسنگ روم کو پلٹ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

المیہ مگر یہ ہوا کہ پاکستان نے تیسرے دن ہی وہ بیٹنگ اپروچ اپنا لی جو پانچویں دن اختیار کرنا ہوتی ہے۔ یہاں وہ تخمینے کی گڑبڑ ہوئی جو امیدوں کے چراغ گل کرنے لگی ورنہ وہ نتیجہ بھی بعید نہ تھا جو آج چائے کے وقفے پر ممکن دکھائی دے رہا تھا۔

اور یہ سب ہوا اس فراموش کردہ بلے باز فواد عالم کے طفیل جسے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے لیے دس سال انتظار کرنا پڑا۔ فواد عالم کی اننگز صرف مخالف اٹیک کے لیے ہی نہیں، اپنے ہم وطن ناقدین کے لیے بھی بھرپور جواب تھی۔

فواد عالم کی اننگز کا نمایاں پہلو ان کا صبر تھا۔ جو صبر انھوں نے پچھلے دس سال سلیکشن کمیٹی کے دروازے پر دکھایا، ویسا ہی صبر انھوں نے ویگنر، ساؤتھی، بولٹ اور جیمیسن کے مشکل سوالوں کے جواب میں دکھایا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹیسٹ کرکٹ نام ہی صبر آزمائی کا ہے اور فواد عالم آج اس صبر کے امتحان میں پورا اُترے۔ وکٹ کیسی بھی ہو، اس کیوی اٹیک کے سامنے ساڑھے چھ گھنٹے سے زائد مزاحمت کرنا ہی محیرالعقول کارنامہ ہے۔ پچھلے دو تین سالوں میں یہ مزاحمت پاکستانی ٹیسٹ ٹیم سے عنقا ہوتی جا رہی تھی۔

اگر فواد عالم کے ساتھ ٹاپ آرڈر کا کوئی ایک بلے باز بھی اپنا حصہ ڈال جاتا تو پاکستان یہ ہدف حاصل بھی کر سکتا تھا اور چائے کے وقفے پہ سکور بورڈ کی صورتِ حال بھی اس کی واضح دلیل تھی۔

پاکستان کے لیے دوسرا خوش کن پہلو محمد رضوان کی قائدانہ کارکردگی ہے۔ بولنگ کی تبدیلیوں میں درست فیصلے اپنی جگہ، کریز پر موجودگی کے دوران ان کی فیصلہ سازی میں بھی قائدانہ کردار بخوبی نظر آیا۔ پہلی اننگز میں جس طرح انھوں نے بالکل شکست خوردہ ذہنیت کے عکاس سکور بورڈ کے خلاف جوابی حملہ کیا، وہ پاکستانی کرکٹ کلچر سے معدوم ہوتا جا رہا تھا۔

آج دوسری اننگز میں بھی جس ذہنی پختگی کا ثبوت انھوں نے دیا، اس کی بنیاد پر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کامران اکمل کے کریئر کے ابتدائی سالوں کے بعد اب کہیں آ کر پاکستان کے پاس ایک مکمل وکٹ کیپر بلے باز آیا ہے جو بوقتِ ضرورت قیادت کا بوجھ بھی اٹھا سکتا ہے۔

اظہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتب تک مصباح الحق اور یونس خان کو صرف یہ سوچنا ہے کہ ٹاپ آرڈر پر کون سا منتر پھونکا جائے کہ وہ بھی اپنے حصے کا کام کرنے لگے

جس وقت شاہین شاہ اور محمد عباس مزاحمت کی دیوار بنے ہوئے تھے، پاکستانی کیمپ میں امید کی کرن موجود تھی کہ معاملات ڈرا کی جانب جا سکتے ہیں۔ مگر عباس کے جانے کے بعد بھی نوجوان نسیم شاہ نے اپنے تئیں مزاحمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

وہ تو بھلا ہو ولیمسن کی حاضر دماغی کا کہ سینٹنر کو دوبارہ اٹیک میں واپس لائے اور ڈرا کی جانب جاتے میچ کو واضح نتیجے کی طرف موڑ دیا۔ ورنہ جس ہمت کا اظہار پاکستانی بیٹنگ نے کر چھوڑا تھا، ڈرا بالکل جائز نتیجہ تصور ہوتا۔

شکست کبھی بھی تسلی بخش نہیں ہوتی مگر پاکستان کے لیے اطمینان افروز پہلو کوئی ایک نہیں، فہیم اشرف کی بیٹنگ، شاہین آفریدی کی بولنگ، رضوان کی دو بھرپور اننگز کے ساتھ اگر فواد عالم کی لاجواب اننگز کو بھی شامل کر لیا جائے تو اگلے میچ کے لیے امید کا بہت سا سامان اکٹھا ہو سکتا۔

تب تک مصباح الحق اور یونس خان کو صرف یہ سوچنا ہے کہ ٹاپ آرڈر پر کون سا منتر پھونکا جائے کہ وہ بھی اپنے حصے کا کام کرنے لگے۔