پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پہلا ٹیسٹ میچ: ’ہارنا تو ہے، تھوڑا جارحانہ کھیل کر ہارو، ڈر ڈر کے ہارنے کا کیا فائدہ؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتہائی ’ان پریڈیکٹیبل‘ ٹیم ہیں یعنی ایسی ٹیم جس کے بارے میں کوئی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی کہ وہ کب 50 رنز سے کم پر ڈھیر ہو جائیں اور کب ساڑھے تین سو کا ہدف اطمینان سے پورا کر لیں گے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شائقین بھی اپنی ٹیم سے مشکل سے مشکل وقت میں بھی معجزوں کی امیدیں لگائے رہتے ہیں۔
جب ماؤنٹ ماؤنگانوئی میں جاری پہلے میچ کے چوتھے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 38 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 71 رنز بنائے تھے اور سابق کپتان اظہر علی 34 اور فواد عالم 21 رنز پر کھیل رہے تھے۔
پاکستان نے اپنی اننگز شروع کی تو دونوں اوپنرز شان مسعود اور عابد علی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے جب حارث سہیل بھی 37 کے سکور پر چلتے بنے تو یہ ڈر ہوا کہ کہیں پاکستان آج ہی اپنا بوریا بستر نہ سمیٹ لے لیکن پھر اظہر اور فواد نے 20 اوورز میں 34 رنز کی شراکت قائم کر لی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا مطلب ہے کہ میچ کے آخری دن پاکستان کو جیت کے لیے 302 رنز درکار ہیں جبکہ ان کے پاس کم از کم 98 اوورز اور سات وکٹیں باقی ہیں۔
اس سے قبل جب نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز شروع کی تو انھوں نے تقریباً چار رنز فی اوور کی اوسط سے 45 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 180 رنز بنائے۔
ان کے اوپنرز ٹام لیتھم اور ٹام بلنڈل نے صرف 32 اوورز میں 111 رنز کی شراکت قائم کی اور یقینی بنایا کہ ان کی ٹیم میچ میں ناقابل شکست رہے۔
پاکستان کی جانب سے البتہ ایک خوش آئند بات تھی کہ نسیم شاہ نے تین وکٹیں حاصل کیں جس سے ان کے اعتماد میں بہتری آئی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن کیا پاکستان 372 کا ہدف پورا کر لے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ دیکھیں تو 153 سالوں میں چوتھی اننگز میں ساڑھے تین سو رنز سے زیادہ کا ہدف کامیابی سے صرف 11 بار عبور کیا گیا ہے تو اس میچ کے سکور کارڈ کو دیکھتے ہوئے ممکنہ نتیجہ یا تو کیویز کی جیت پر منتج ہو گا یا ڈرا ہونے پر۔
لیکن سوشل میڈیا پر میچ کے بعد تبصرہ کرنے والے ایک صارف مدثر لکھتے ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ ہنسیں گے لیکن یہ بہت ممکن ہے کہ ہم یہ میچ جیت جائیں۔ نوے اوورز میں مطلوبہ رن اوسط 3.33 ہے اور فی سیشن 100 رنز بنانا پچ کو دیکھتے ہوئے ممکن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MuddassarKhalid
عاصمہ رباب کو تو ٹیم پر اتنا بھروسہ تھا کہ انھوں نے انفرادی سکور کی بھی پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’فواد عالم 111، اظہر علی 80، رضوان 69 اور فہیم 99 رنز بنائیں گے، لڑکوں، ہم جیت رہے ہیں۔‘
طلحہ ہاشمی کو بھی لگتا ہے کہ پاکستان میچ جیت جائے گا اور اس کے لیے انھوں نے پڑوسی ملک انڈیا کی مثال دی جنھوں نے کپتان وراٹ کوہلی کی غیر موجودگی کے باوجود آسٹریلیا کو ان کے میدان میں شکست دے دی اور کہا کہ پاکستان بھی بابر اعظم کی غیر موجودگی میں میچ کو پانچویں دن لے گیا ہے اور ممکن ہے کہ یہاں سے جیت بھی جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اب اس بات کا کیا کریں کہ پاکستان کی بیٹنگ پر تنقید ہی اس بات پر ہو رہی ہے کہ ان کی رن بنانے کی اوسط انتہائی آہستہ ہے اور پہلی اننگز میں پاکستان نے سو سے زیادہ اوورز کھیل کر 2.33 کی اوسط سے رنز بنائے اور دوسری اننگز میں بھی اب تک صرف 1.86 کی اوسط چل رہی ہے۔
صارف ذالقرنین تو اس صورتحال پر اتنے غصے میں تھے کہ وہ لکھتے ہیں کہ ’38 اوورز میں 71 رنز انتہائی بُری بیٹنگ ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تھوڑا تیز کھیل لیں، شاید سکور ابھی 135 ہوتا۔ ہارنا تو ہے، تھوڑا جارحانہ کھیل کر ہارو، ڈر ڈر کے ہارنے کا کیا فائدہ؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ZulQee
صارف اکبر لکھتے ہیں کہ اب تو صرف بارش ہی پاکستان کو بچا سکتی ہی۔ لیکن پھر فوراً ہی وہ کہتے ہیں ’پاکستان کی ٹیم کچھ بھی کر سکتی ہے۔۔‘
سلیم خان نے بھی لکھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ ہر بال کو روکنے کے بجائے کل تھوڑا تیز کھیلیں اور جیتنے کی کوشش کریں۔
لیکن دیگر کچھ ایسے صارفین بھی تھے جنھیں ٹیم سے بالکل بھی امید نہیں تھی۔
صارف عرج لکھتے ہیں کہ ’کل اظہر علی اور فواد عالم اپنے سکور سے صرف ٹیم میں جگہ پکی کریں گے اور پھر آؤٹ ہو جائیں گے۔ وہ بھلا کیوں ڈٹ کر کھڑے رہیں گہ اور کوشش کریں گے کہ پاکستان میچ جیت جائے جب انھیں یقین ہے کہ وہ ٹیم سے نہیں نکالے جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@BugzBU
لیکن صارف احمد تو پاکستان کرکٹ سے بالکل ہی مایوس نظر آئے اور انھوں نے ٹویٹ میں کہا: ’پاکستان میں اب کوئی کرکٹ کا ٹیلنٹ نہیں بچا۔ اور اگر کوئی ہے تو وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لائق نہیں ہے۔ کرکٹ پاکستان میں ختم ہو رہی ہے۔‘
صارف بکیش شریستھ نے میچ کے بارے میں ایک جذباتیت سے عاری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’اگر پاکستان میچ ڈرا کر جائے، تو یہ بھی ان کی جیت ہو گی۔‘













