پی ایس ایل: سلطانز کی بیٹنگ اور بولنگ میں شاندار کارکردگی، قلندرز کو باآسانی ہرا دیا

شان مسعود

،تصویر کا ذریعہPCB

پاکستان سپر لیگ کا 29واں میچ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے مابین کھیلا گیا۔ ملتان سلطانز نے ٹاس جیت کر قلندرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جس کے بعد انھوں نے سلطانز کو جیت کے لیے 141 رنز کا ہدف دیا۔ سلطانز نے مقررہ ہدف 13ویں اوور میں ہی پورا کرلیا اور ان کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

پاکستان سپر لیگ کے پوائنٹس ٹیبل کا جائزہ لیا جائے تو لاہور قلندرز ایک مرتبہ پھر اس شکست کے بعد آخری نمبر پر ہیں جبکہ ملتان سلطانز نے ٹورنامنٹ کا اختتام پانچویں نمبر پر کیا ہے۔

لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز اس سال کے ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکے ہیں اور اس میچ کے نتیجے کا پلے آف مرحلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ میچ ان دونوں ٹیموں کا پی ایس ایل کے چوتھے سیزن کا آخری میچ تھا۔

محمد عباس اپنی عمدہ بولنگ کی کارکردگی کے باعث مین آف دا میچ قرار پائے۔ انھوں نے 22 رنز ک عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ملتان سلطانز کی جانب سے شان مسعود نے جارحانہ اننگ کھیلی اور صرف 24 گیندوں پر 48 رنز بنائے جس کے بعد وہ ڈیوڈ وائز کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے اور اپنی نصف سنچری بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جانسن چارلز نے بھی شان مسعود کا بھرپور ساتھ دیا اور 41 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

لاہور قلندرز کی جانب سے بولنگ مایوس کن رہی اور کوئی بھی بولر متاثر نہ کر پایا۔ شاہین آفریدی اور ڈیوڈ وائز نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ملتان سلطانز کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی عمر صدیق تھے جو 13 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ 70 کے مجموی سکور پر جیمز ونس 25 رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

فخر زمان

،تصویر کا ذریعہPCB

لاہور قلندرز کی اننگز

لاہور قلندرز نے اپنے مقررہ 20 اوورز میں 140 رنز بنائے اور ان کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ فخر زمان نے شاندار اننگز کھیلی اور 33 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی جس کے بعد وہ شاہد آفریدی کی گیند پر 53 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔

ملتان سلطانز کی جانب سے محمد عباس سب سے نمایاں بولر رہے اور انھوں نے 22 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ شاہد آفریدی نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 18 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ محمد الیاس اور کرس گرین نے بھی ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

رکی ویسلز قلندرز کی جانب سے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے جو چار رنز بنا کر کرس گرین کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ سہیل اختر بھی زیادہ دیر کریز پر نہ رہ سکے اور صرف پانچ رنز بنا کر محمد عباس کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ حارث سہیل نے سات رنز بنائے اور شاہد آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

سعد علی بھی محمد عباس کی بولنگ کے آگے بے بس دکھائی دیے اور 8 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے۔ ڈیوڈ وائز آؤٹ ہونے والے چھٹے کھلاڑی تھے جنھوں نے 30رنز کی اچھی اننگ کھیلی اور محمد عباس کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

شاہد آفریدی

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی نے 18 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

آج کے میچ کی خصوصی بات یہ تھی کہ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں چھاتی کے سرطان کی آگاہی سے متعلق دن منایا گیا اور اس کے پیش نظر سٹمپس گلابی رنگ کے رکھے گئے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

گذشتہ روز کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رن سے ہرا دیا۔ اس نتیجے کے بعد لاہور قلندر کی ٹیم پلے آف مرحلے سے باہر ہو گئی ہے۔ ملتان سلطانز کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے نکل چکی تھی۔

پی ایس ایل کے پلے آف مرحلے میں جانے والی ٹیموں میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنملتان سلطانز کی لاہور قلندرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت

سلطانز اور قلندرز اس سے قبل پی ایس ایل کی تاریخ میں تین پار مد مقابل آچکے ہیں۔ ان میچوں میں قلندرز دو بار کامیاب رہے جبکہ ملتان سلطانز کو ایک مرتبہ کامیابی نصیب ہوئی۔

پی ایس ایل فور میں ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کے مابین 22 فروری کو کھیلے گئے میچ میں قلندرز نے سلطانز کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

لاہور قلندرز کی ٹیم فخر زمان (کپتان)، ڈیوڈ وائز، حارث رؤف، حارث سہیل، حسن خان، سعد علی، سندیپ لامی چانے، شاہین آفریدی، رکی ویسلز، سہیل اختر اور اصیلا گونارتنے پر مشتمل تھی۔

ملتان سلطانز کی ٹیم شعیب ملک (کپتان)، کرس گرین، جیمز ونس، ڈین کرسچیئن، جانسن چارلس، جنید خان، محمد عباس، محمد الیاس، شاہد آفریدی، شان مسعود، اور عمر صدیق پر مشتمل تھی۔

پاکستان سپر لیگ کے آخری مرحلے کے میچ لاہور اور کراچی میں کھیلے جانے تھے لیکن براڈ کاسٹرز کے ساز و سامان اور آلات کی بروقت لاہور منتقلی نہ ہونے کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ نے تین مارچ کو یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں ہونے والے تمام آٹھ میچ کراچی میں ہوں گے جن میں 17 مارچ کو کھیلا جانے والا فائنل بھی شامل ہے۔