انڈین کرکٹ ٹیم کے فوجی ٹوپی پہننے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈین کرکٹرز کی جانب سے آسٹریلیا کے خلاف رانچی میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میچ میں فوجی ٹوپیاں پہن کر کھیلنے پر آئی سی سی سے سخت احتجاج کیا ہے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے اتوار کے روز نیشنل اسٹیڈیم میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کو پہلے ہی ایک خط بھیج چکا ہے اور آئندہ بارہ گھنٹے میں ایک اور خط بھیجا جارہا ہے۔
اسی بارے میں مزید پڑھیے
احسان مانی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے جس پر ہم نے آئی سی سی کی توجہ دلائی ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے اجازت کسی اور مقصد کے لیے لی تھی لیکن کیا کچھ اور۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
احسان مانی کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے یہ جو حرکت کی ہے اس سے اس کی پوزیشن خاصی خراب ہوئی ہے۔ کرکٹ یا کسی بھی کھیل کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
احسان مانی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ اس نے ماضی میں جس طرح عمران طاہر اور معین علی کے خلاف کارروائی کی اسی طرح کی کارروائی بھارتی کرکٹ بورڈ کے خلاف بھی کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی پوزیشن اچھی طرح معلوم ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو پیشہ ورانہ انداز میں میرٹ کی بنیاد پر دیکھ رہا ہے۔

'یہ کرکٹ ہے، اسے کشمیر کا مسئلہ نہ بنائیں'
سمیع چوہدری کا تجزیہ
انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ راہول جوہری کا بادی النظر میں کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان کی خاصیت یہ ہے کہ نہ صرف وہ کمال منتظم ہیں بلکہ اپنے کرئیر کے دوران ڈسکووری چینل، ہندوستان ٹائمز اور ’آج تک‘ جیسے اداروں سے وابستگی کے سبب وہ میڈیا کی نبض پہ ہاتھ رکھنا بھی خوب جانتے ہیں۔
اس سے پیشتر گزشتہ چند دنوں کے پاک انڈیا جنگی جنون میں بھی وہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ جہاں پہلے انہوں نے پاکستان کی ورلڈ کپ میں شمولیت پہ پابندی لگوانے کا شوشہ چھوڑا، پھر اسی موقف میں قدرے نرمی لاتے ہوئے آئی سی سی سے التجا کی کہ تمام ممبرز ’دہشت گرد‘ ممالک سے تعلقات منقطع کریں۔
اب جب کہ چند ہفتے گزرنے کے بعد جنگی جنون کی گرد ذرا چھٹنے لگی تھی اور چند ہی روز پہلے راہول جوہری کے آئی سی سی کو لکھے گئے خط پہ بھی استرداد کی مہر لگ چکی تھی، تو بعید نہیں کہ جوہری نے اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ پلاٹ سیٹ کیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@BCCI
اس کے لیے موقع کا انتخاب کمال درستی سے کیا گیا۔ اور اس ’تاریخی‘ کام کے لئے دھونی کا انتخاب بھی عین بجا تھا کہ میچ شروع ہونے سے قبل جب پلیئرز سٹریٹیجی بنانے کو اکٹھے ہوتے ہیں، تب بجائے کوئی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے سبھی کے مرکزِ نگاہ مہندر سنگھ دھونی پلوامہ حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری ٹیم میں کیمو فلاج کیپ تقسیم کر رہے ہوں۔
ایک لمحے کو بھارتی کرکٹ بورڈ اور راہول جوہری کی اس ساری کاوش کو نیک نیتی پہ محمول کر بھی لیا جائے تو نہایت بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ شرفا کے کھیل میں ایسے گمبھیر ایشوز کو اس طرح سے اجاگر کرنا کہاں تک درست ہے جو کھیل سے بھی زیادہ توجہ کے متقاضی ہوں۔
شاید یہی نفسیاتی خلجان انڈین پلیئرز کے سر پہ بھی سوار ہوا کہ پہلے دو میچز میں واضح برتری دکھانے والی انڈین ٹیم تیسرے میچ میں شدید مشکلات کا شکار دکھائی دی۔ اور بلیو کیپ میں دو میچز جیتنے والی ٹیم کیمو فلاج کیپ پہن کر شکست کی خفت سے دوچار ہو گئی۔









