دھون کے 143 رنز، مگر جیت آسٹریلیا کی

شکھر دھاون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکچھ ہی دن پہلے اپنی کارکردگی کی وجہ سے 'اے پلس' کانٹریکٹ کی فہرست سے نکالے جانے والے اوپنر شکھر دھون نے اپنے کیریر کا سب سے بڑا سکور کیا اور 143 رنز بنائے۔

انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے چوتھے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں آسٹریلیا نے انڈیا کو چار وکٹوں سے شکست دے کر سیریز دو دو سے برابر کردی ہے۔

انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نو وکٹوں کے نقصان پر 358 رنز سکور کیے۔ آسٹریلیا نے یہ ہدف 47ویں اوور میں چھ وکٹیں گنوانے کے بعد پورا کرلیا۔

چندی گڑھ میں مداحوں سے کچھا کھچ بھرے ہوئے سٹیڈیم میں جب انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ شروع کی تو روہت شرما اور شکھر دھون نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 193 رنز بنائے۔ دونوں کھلاڑی تیس اوورز تک جم کر آسٹریلین بولنگ اٹیک کا سامنا کرتے رہے اور ان دونوں کے کریز پر ہونے تک بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ آسٹریلوی بولرز آج مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔

کچھ ہی دن پہلے اپنی کارکردگی کی وجہ سے 'اے پلس' کانٹریکٹ کی فہرست سے نکالے جانے والے اوپنر شکھر دھون نے اپنے کیریر کا سب سے بڑا سکور کیا اور 143 رنز بنائے۔ ان کا ساتھ اوپنر روہت شرما نے دیا جن کی وکٹ 30ویں اوور میں 95 کے انفرادی سکور پر گری۔

انڈیا کی پہلی وکٹ گرنے کے بعد شکھر دھاون اور لوکیش راہل نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 63 رنز کا اضافہ کیا اور ایک موقعے پر ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا چار سو سے زائد سکور کرے گا۔ تاہم شکھر دھاون کے آوٹ ہونے کے بعد پیچھے آنے والے بیٹسمین آسٹریلوی اٹیک کا سامنا نا کرسکے۔

ایشٹن ٹرنر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمشکل صورتحال اور پانچ کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد جب نوجوان آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر کریز پر آئے تو ان کے کھیل سے ایسا لگا کہ وہ کسی اور پچ اور میدان میں کھیل رہے ہوں۔

انڈیا کے باقی سات بیٹسمینوں میں سے کوئی بھی تیس رن سے زیادہ کی پارٹنرشپ نا کرسکا۔ کپتان وراٹ کوہلی، جنھوں نے گزشتہ میچ میں 41ویں سنچری اور انڈیا آسٹریلیا مقابلوں میں آٹھویں ویں سنچری کر کے سچن ٹنڈولکر کا ریکاڈ توڑ دیا تھا۔ اس میچ میں صرف 7 رن سکور کر سکے۔

آسٹریلیا نے جب اپنی اننگز کا آغاز کیا تو ان کے پاور سٹرائیکر آرن فنچ پہلے ہی اوور کی چوتھی گیند پر جسپریت بھمرا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

ون ڈاؤن آنے والے شان مارش بھی 3 اوور کے ہی مہمان ثابت ہوئے اور آسٹریلیا کی چار اوورز کے اندر 12 رنز کے سکور پر دو وکٹیں گر چکی تھیں۔

تیسرے او ڈی آئی میں سنچری بنانے اور آٹسریلیا کو فتح سے ہمکنار کرنے والے پاکستانی نژاد آسٹریلوی بیٹسمین عثمان خواجہ نے پیٹر ہینڈسکومپ کے ساتھ ڈوبتی ہوئی آسٹریلوی اننگز کو سہارا دیا۔ دونوں بیٹسمینوں نے غیر ضروری شارٹس سے اجتناب کیا لیکن ساتھ ہی ایک پہاڑ نما ٹارگٹ کا تعاقب کرتے ہوئے آسٹریلوی رن ریٹ میں کمی کی۔

دونوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 192 رنز سکور کیے۔ آسٹریلیا کی چوتھی وکٹ 212 کے سکور پر 33ویں اوور میں گری جب عثمان خواجہ 91 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوگئے۔ جبکہ ان کے ساتھی ہینڈسکومب نے 117 رن سکور کیے۔

پیچھے آنے والی بیٹمین گلین میکسول اور ایلکس کیری نے آسٹریلوی رن ریٹ میں اضافہ کرنے کی کوشش کی لیکن بھارتی بولرز کی لائن اور لینتھ اور آسٹریلوی وکٹیں گرنے کی وجہ سے انڈیا کی اننگز پر گرفت مضبوط دکھائی دی۔

لیکن مشکل صورتحال اور پانچ کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد جب نوجوان آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر کریز پر آئے تو ان کے کھیل سے ایسا لگا کہ وہ کسی اور پچ اور میدان میں کھیل رہے ہوں۔

ٹرنر نے آتے ہی انڈین بولرز کو آڑے ہاتھوں لیا۔وکٹ کیپر ایلکس کیری لے ساتھ مل کر انھوں نے صرف 28 گیندوں پر 50 رن کی پارٹنرشپ مکمل کی۔ تاہم کیری کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی ٹرنر کو زیادہ فرق نہیں پڑا اور انھوں نے انڈین اٹیک پر دھاوا بول دیا۔

چھ چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے انھوں نے 44 گیندوں پر 84 رنز بنائے اور مین آف دی میچ بنے۔ ان کی اننگز کی بدولت آسٹریلیا نے کا 358 ہدف اڑتالیسویں اوور کے اختتام سے پہلے حاصل کرلیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پانچواں اور فیصلہ کن میچ 13 مارچ کو دلی کے فیروز شاہ کوٹلا سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔