کراچی میں غیر ملکی کرکٹرز کی سخت سکیورٹی میں پریکٹس

پاکستان سپر لیگ کی رونقیں متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل ہو چکی ہیں جہاں کراچی کا نیشنل سٹیڈیم آج شام سات بجے لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے میچ کی میزبانی کرے گا۔

لیوک رانکی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا کیپشنپاکستان سپر لیگ کے آخری مرحلے کے میچ لاہور اور کراچی میں کھیلے جانے تھے لیکن براڈ کاسٹرز کے ساز و سامان اور آلات کی بروقت لاہور منتقلی نہ ہونے کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ نے تین مارچ کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے تمام آٹھ میچ کراچی میں ہوں جن میں 17 مارچ کو کھیلا جانے والا فائنل بھی شامل ہے۔
کراچی

،تصویر کا ذریعہAFP/ Getty

،تصویر کا کیپشنپاکستان سپر لیگ میں اب تک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی پلے آف میں جگہ بنا چکی ہیں اب یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ پوائنٹس ٹیبل پر ان میں سے کونسی ٹیم سرفہرست رہتی ہے۔
کراچی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا کیپشنپلے آف میں پہنچنے والی بقیہ دو ٹیمیں کون سی ہوں؟ اس کے لیے تین ٹیموں اسلام آباد یونائیڈڈ ، کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان مقابلہ ہے۔
کولن انگرام

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا کیپشنکراچی کنگز کے آٹھ میچوں میں آٹھ پوائنٹس ہیں جبکہ لاہور قلندرز کے آٹھ میچوں میں چھ پوائنٹس ہیں۔
آرون سمر

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا کیپشناس طرح کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے پاس ابھی دو دو میچ باقی ہیں اور ان دونوں ٹیموں کے پاس پلے آف میں جانے کا اچھا موقع موجود ہے۔
فل سالٹ

،تصویر کا ذریعہAFP / Getty

،تصویر کا کیپشناسلام آباد یونائٹڈ کے تمام غیر ملکی کرکٹرز جن میں لیوک رانکی، فلپ سالٹ،کیمرون ڈیل پورٹ اور سمت پٹیل شامل ہیں نے جمعے کو نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پریکٹس کی۔
کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان سپر لیگ کے میچوں کے دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ نیشنل سٹیڈیم سے ملحقہ سڑکوں پر کنٹیٹرز رکھ دیے گئے ہیں۔
کراچی
،تصویر کا کیپشنکراچی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر امیر شیخ کا کہنا ہے کہ میچوں کے دوران یونیورسٹی روڈ، آغا خان ہسپتال اور لیاقت ہسپتال آنے والی سڑک کھلی رہے گی البتہ کارساز، ڈالمیا اور حسن سکوائر سے سٹیڈیم آنے والے راستے بند رہیں گے۔
کراچی

،تصویر کا ذریعہAFP/ Getty

،تصویر کا کیپشننیشنل سٹیڈیم اور اس کے اطراف تقریباً 13 ہزار پولیس والے ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ رینجرز کے اہلکار بھی بڑی تعداد میں ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔