وٹامن ای کی کمی دمہ کا باعث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیئے کہ اگر ان میں وٹامن ای کی کمی ہو توپیدا ہونے والے بچوں میں دمے کا خطرہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایبرڈین کی تحقیق کے مطابق وٹامن ای پھیپھڑوں کے نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق حمل کے پہلے سولہ ہفتے اس سلسلے میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس دوران ایمبریو کے سانس کا نظام تکمیل پا چکا ہوتاہے۔ لیکن اس تحقیق کے نگران ڈاکٹر گراہم کا کہنا ہے کہ وٹامن ای کی کمی پھیپڑوں کی نشوونما پر اثر اندازہونے کے ساتھ ساتھ سانس کی نالی میں تیزابیت کا باعث بھی ہے۔ ڈاکٹر گراہام اور ان کی ٹیم نے دو ہزار خواتین اور ان کے بچوں کو پانچ سال تک زیر معائنہ رکھا۔ جس سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جن خواتین میں حمل کے دوران وٹامن ای کی کمی ہوتی ہے ان کے بچوں میں پانچ سال کی عمر تک سانس پھولنے یا دمے کے اثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد بچوں کودی جانے والی وٹامن ای کی خوراک بھی فرق نہیں ڈالتی۔ وٹامن ای کی متاثرہ خواتین کے نوزائیدہ بچے گرد اور گھاس کے پولن سے زیادہ جلدی متاثر ہوتے ہیں اور جب یہ دو سال کی عمر تک پہنچتے ہیں تو پھولے سانس اور دمہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر گراہام کا کہنا ہے کہ صرف اس تحقیق کی وجہ سے حاملہ خواتین کو وٹامن ای کھانا شروع نہیں کر دینا چاہیئے بلکہ متوازن اور صحت مند غذا کھانی چاہیئے۔ ہو سکتا ہے کہ پچھلے پچاس سالوں میں لوگوں کے وٹامن ای کی مقدار کم کھانے سے بچوں میں دمہ کی بیماری کا اضافہ ہوا ہو۔ اس وقت برطانیہ میں گیارہ لاکھ بچے دمہ کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں ایستھما یو کے نامی تنظیم کی ڈاکٹر لین سمرتھوائٹ کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ متوازن خوراک اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے حاملہ خواتین کو اپنے بچوں کو اس بیماری سے بچانے کے لیئے خاص طور پر متوازن غذا کھانی چاہیئے۔ برٹش لنگس فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کیتھ پروز کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کو دمہ سے بچانے کے لیئے حاملہ خواتین کی خوراک اور بھی اہمیت کی حامل ہو گئی ہے۔ جراثیمی بیماریوں اور دمے سے بچنے میں صحت مند غذا معاون ہو سکتی ہے۔ بچپن میں ہونے والے دمہ کے سلسلے میں حاملہ خواتین کی خوراک پر مزید تحقیق کی جائے گی۔ سبزیوں کے تیل، مارجرین، میوے اور سورج مکھی کے بیجوں میں وٹامن کی کافی مقدار شامل ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں متبادل ماں کے ہاں پانچ جڑواں بچے28 April, 2005 | نیٹ سائنس ’جڑواں بچے چاہئیں تو دودھ پیجیئے‘21 May, 2006 | نیٹ سائنس دمہ کی دوا سے موتیا کا خطرہ18 September, 2003 | نیٹ سائنس بچے! پیدائشی حسن پرست 06 September, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||