| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اینٹی بایوٹک ادویات دمہ کا سبب
امریکہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں میں اینٹی بایوٹک یا ضد حیات ادویات کے استعمال سے آئندہ عمر میں دمہ لاحق ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے یہ معلوم نہیں تاہم محققین کا خیال ہے کہ مغربی ممالک میں دمہ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا غالباً ایک سبب یہ بھی ہے۔ اگرچہ اس سے پیشر کی تحقیقات میں بھی اینٹی بایوٹکس کو دمہ پیدا کرنے کا سبب بتایا گیا تھا تاہم یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی گئی کیونکہ ان مطالعوں کی بنیاد والدین کی فراہم کردہ معلومات پر تھی۔ اور ظاہر ہے کہ طویل عرصے بعد محض یاداشت کی بنیاد پر کسی سائنسی تحقیق کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ البتہ اس بار ہینری فورڈ ہیلتھ سسٹم کی اس تحقیقی جماعت نے چار سو اڑتالیس بچوں کو مستقل اپنے طبی مشاہدے میں رکھا۔ ان میں سے نصف بچوں کو چھ ماہ کی عمر کے دوران اینٹی بایوٹکس دی گئیں۔ مطالعہ کے اختتام پر ان میں سے اکیس بچوں میں ایسی علامتیں پائی گئیں جو ناموافق موسم میں دمہ میں بدل سکتی ہیں۔ یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی کے ایک مذاکرے میں سائنسدانوں نے بتایا کہ عمر کے پہلے چھ ماہ میں اینٹی بایوٹک لینے والے بچوں میں دمہ پیدا ہونے کا خدشہ دو عشاریہ چھ کنا بڑھ جاتا ہے جبکہ اگر اینٹی بایوٹک زیادہ طاقتور ہو تو پھر یہ خطرہ تقریباً نو گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ اگر والدین میں سے کوئی موروثی دمہ کا شکار ہو تو ایسے بچوں میں اینٹی بایوٹک کا استعمال صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||