’جڑواں بچے چاہئیں تو دودھ پیجیئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر حاملہ عورت دودھ اور دودھ سے بنی ہو اشیاء زیادہ مقدار میں استعمال کرے تو یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ اس کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوں گے۔ جرنل آف ری پروڈکٹیو میڈیسن کا کہنا ہے کہ دودھ پینے والی حاملہ خواتین اور دیگر حاملہ خواتین کے درمیان یہ فرق ہے کہ دودھ کا استعمال کرنے والی خواتین کہ ہاں جڑاوں بچے پیدا ہونے کا امکان پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا میں جڑواں بچوں کی تعداد گزشتہ تیس برس کے دوران کافی بڑھ گئی ہے۔ بعض ممالک میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش پچاس فیصد تک بھی پائی گئی ہے۔ اس اضافے کا ایک سبب سائنسدانوں کے نزدیک یہ ہے کہ بے اولاد خاندانوں کو علاج کی سہولت پہلے کی نسبت بہتر طور پر دستیاب ہے۔ تاہم نئی تحقیق کے مطابق جڑوان بچوں کی پیدائش میں اضافے کا ایک اہم سبب حاملہ خواتین کی خوراک بھی ہے۔ اس تحقیق کے لیئے دورانِ حمل دودھ استعمال کرنے والی خواتین کا موازنہ ان خواتین سے کیا گیا جو دودھ یا اس سے بنی اشیاء استعمال نہیں کرتیں۔ خیال ہے کہ جانوروں کے جگر میں پائے جانے والے لحمیات جڑواں بچوں کی پیدائش کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں۔ دودھ دینے والے جانوروں بالخصوص گائے کے دودھ یا اس سے بنی اشیاء میں آئی جی ایف پایا جاتا ہے۔ جانوروں کا دودھ پینے والی خواتین کا بیضہ دان زیادہ حساس ہو جاتا ہے اور بیضہ زیادہ تعداد میں پیدا کرتا ہے ۔ عموماً امریکہ میں یہ اثر زیادہ ہونے کا امکان ہے جہاں پیدائش کے ہارمونز مویشیوں کو خوراک میں دیئے جاتے ہیں۔ اس مطالعے کے خالق کا کہنا ہے جو خواتین حاملہ ہونا چاہیں لیکن ان کی خواہش ہو کہ ان کے ہاں جڑواں بچے نہ پیدا ہوں انہیں چاہیئے کہ وہ گوشت اور دودھ یا اس سے بنی ہوئی اشیاء کھانے کی بجائے دوسری چیزیں کھائیں۔ تحقیق کے مطابق جڑواں بچوں کی پیدائش سے خواتین میں مختلف پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ | اسی بارے میں پیدائش میں دیر، قدرت کی مخالفت16 September, 2005 | نیٹ سائنس دیر ہو گی تو لڑکا ہو گا16 December, 2005 | نیٹ سائنس ’یورپ میں بانجھ پن دوگنا‘21 June, 2005 | نیٹ سائنس اسپرین کا نقصان15 August, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||