آئی بی ایم کے پہلے پی سی نے کیا کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر بنانے والے ادارے آئی بی ایم نے 12 اگست 1981 کو پی سی یعنی پرسنل کمپیوٹر IBM 5250ِ بنانے کا اعلان کر کے ایک ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل سر کیا تھا۔ پندرہ سو پینسٹھ ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اس کمپیوٹر کی یاداشت یا میموری صرف سولہ کلو بائٹ تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ چند ایک ای میلز کے سوا کچھ محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا۔ کمپیوٹر کو مقبول بنانے کے لیئے بنائی جانے والے یہ کوئی پہلی مشین نہیں تھی لیکن آئی بی ایم کے بعد اس سلسلے میں ایک دوڑ اور عالمی معیار کی پیش رفت شروع ہو گئی۔ جریدے اکونومسٹ کے بزنس ایڈیٹر نے اس بارے میں بی بی سی کی ورلڈ سروس کے تجزیاتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کے جدید استعمال اور تقاضوں کو دیکھا جائے تو یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ اس وقت کمپیوٹر کو کن مقاصد کے لیئے استعمال کرتے ہوں گے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایسی بہت سے چیزیں ہیں جنہیں اب کمپیوٹر کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، جیسے سپریڈ شیٹ اور ورڈ پروسسنگ‘۔
انٹرنیٹ کے وسیع تر استعمال، از خود تیار ہونے والی سپریڈ شیٹ اور ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے ذریعے اب تو ہر چیز ممکن ہو چکی ہے۔ پی سی کی اصطلاح تو آئی بی ایم کا کمپیوٹر آنے سے پہلے بھی موجود تھی لیکن آئی بی ایم کی مشین 5150 آنے کے بعد اس کے معنی ایک ایسی مشین کے ہو گئے جو آئی بی ایم کے مقرر کردہ تقاضوں یا معیارات پر پوری اُترتی ہو۔ یہ مشین آئی بی ایم کے بارہ انجینئروں کی ایک ٹیم نے تیار کی تھی اور اس ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈان ایسٹریج تھے، جنہیں فادر آف آئی بی ایٹ پی سی بھی کہا جاتا ہے۔ اس مشین کی تیاری میں ایک سال کا عرصہ لگا اور اس کے لیے جو پرزے استعمال کیئے گئے وہ مختلف دوسرے مشینوں میں استعمال کیئے جاتے تھے۔ اس مشین کی تیاری اس طرح آزادانہ انداز سے کی گئی تھی کہ کوئی بھی دوسرا ادارہ اس سے ہم آہنگ مشین بنا سکتا تھا۔ تاہم آئی بی ایم نے اس کے لیئے بی آئی او ایس یعنی بیسک انپٹ/ آؤٹ پٹ سسٹم کے محفوظ حقوق پر انحصار کیا اور جو بھی کمپیوٹر بنیادی نظام کو چلانے والے اس سافٹ ویئر کا استعمال کرنا چاہتا تھا اسے آئی بی ایم سے اس کا لائسنس حاصل کرنا ضروری تھا۔ بی او آئی ایس وہ سافٹ ویئر ہے جو کمپیوٹر کے کی بورڈ، ڈسپلے سکرین، ڈسک ڈرائیور، سیرئل، کمیونیکیشن اور دوسرے بنیادی نظام کو حرکت میں لاتا ہے۔
اس کے باوجود پی سی بنانے کی کھلی اجازت نے ایک انقلاب پرپا کر دیا اور دوسرے کئی اداروں نے آئی بی ایم کو ایک دھیلہ بھی دیئے بغیر اپنے بی آئی او ایس استعمال کرتے ہوئے آئی بی ایم پی سی سے ملتے جلتے کمپیوٹر تیار کرنا شروع کر دیئے۔ اس انقلاب کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کے بڑے حصے میں اب کمپیٹر زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے اور اس وقت ایک ارب کے لگ بھگ پی سی لوگوں کے استعمال میں ہیں۔ |
اسی بارے میں انسانی ذہن پڑھنے والا کمپیوٹر26 June, 2006 | نیٹ سائنس پی سی کیلیے 3 فروری تک خطرہ31 January, 2006 | نیٹ سائنس ’تخریب کار وائرس سے ہوشیار رہیں‘30 January, 2006 | نیٹ سائنس کمپیوٹر گیمز اور تشدد پسند رویہ 10 January, 2006 | نیٹ سائنس ونڈوز کی خرابی سے وائرس میں آسانی29 December, 2005 | نیٹ سائنس فائرفاکس ویب براؤزر نئے روپ میں29 November, 2005 | نیٹ سائنس کمپیوٹر اب 9990 روپے میں 02 August, 2005 | نیٹ سائنس مائیکرو سوفٹ کو جرمانے کا خطرہ31 May, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||