 |  حال میں لانچ کیا گیا ایپل کا نیا ’منی میک۔‘ |
نیویارک کے مین ہیٹن کے علاقے میں پرنس سٹریٹ پر میک سٹور میں داخل ہوں تو ایسا ہی لگتا ہے جیسے کسی مقدس جگہ پر آگئے ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر وہی لوگ آتے ہیں جو ایپل کمپنی کی پروڈکٹس کو صرف پسند ہی نہیں کرتے بلکہ انُ کی پوجا کرتے ہیں۔ ایپل کمپنی کی اشیا لوگوں میں آخر اسِ حد تک مقبول کیوں ہیں کہ یہ پسندیدگی سے بڑھ کر عقیدت معلوم ہوتی ہے۔ نیویارک کے اس سٹور میں ایپل کی اشیا خریدنے کے خواہشمند نئے گاہکوں اور ایپل کے پرانے دیوانوں کا استقبال سٹور کے ورکرز کرتے ہیں جو سر سے پاؤں تک کالے لباس میں ملبوس اور مختلف پروڈکٹس ہاتھ میں لئے موجود ہوتے ہیں۔
 |  ایپل کمپنی کے بانی اور مالک سٹیو جابز۔ |
ایپل کمپنی کی اشیا خریدنے والے یہ ’عقیدت مند‘ ایک دوسرے کو بالکل ویسے ہی پہچان لیتے ہیں جیسے ساٹھ کی دہائی میں فوکسی گاڑی کے مالکان ایک دوسرے کو دیکھتے ہی جان لیتے تھے کہ ان کے درمیان آپس میں کچھ رابطہ ہے ، کچھ مشترک ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایپل کی اشیاء نہ صرف بہت سٹائلش ہوتی ہیں بلکہ کام میں بھی سب سے آگے ہوتی ہیں لیکن پھر بھی آخر اتنی عقیدت مندی کیوں۔ اگر دیکھا جائے تو ایپل کی اشیاء سے اِس لگاؤ اور اسی طرح مائیکرو سوفٹ کی پروڈکٹس سے نفرت عالمی سطح پر جاری ایک سماجی عمل کا حصہ ہے۔ ایپل کی اشیاء خریدنے والے چونکہ اقلیت میں ہیں لہذا وہ نفسیاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچائی کے زیادہ قریب ہیں۔ عالمی مارکیٹ کی سب سے بڑی کمپنی مائیکرو سوفٹ کے مقابلے میں ایپل لوگوں کو ایک متبادل راستہ پیش کرتا ہے لہٰذا یہ وہ ان لوگوں کی پسند بنتا ہے جو مختلف اور منفرد اشیا پسند کرتے ہیں۔ اطالوی فلسفی امبرٹو ایِکو نے تو ایپل اور مائیکروسوفٹ کا موازنہ عیسائی مذہب کے فرقوں سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ ایپل کیتھولک ہے اور مائیکروسوفٹ پروٹیسٹنٹ۔ لیکن جو کچھ بھی ہو یہ تو ظاہر ہے کہ ایپل کمپنی ایسی پروڈکٹس بنانے میں کامیاب رہی ہے کہ نہ صرف لوگوں میں مقبول ہیں بلکہ لوگ ان کو اپنی پہچان اور شناخت کے لیے بھی اہم سمجھتے ہیں۔ یہ یقینناً بہت کامیاب بزنس کی نسانی ہے۔ |