BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 16:15 GMT 21:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس و جاگیرداروں کے ٹارچر سیل

 پاکستان کی سپریم کورٹ
نعیم آرائیں نے چیف جسٹس کو ایک درخواست میں بتایا تھا کہ انہیں پولیس اہلکاروں نے اپنے نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز صوبہ سندھ کے انسپیکٹر جنرل پولیس یعنی آئی جی، کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں پولیس اور جاگیرداروں کے نجی ’ٹارچر سیل‘ ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں


یہ حکم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اس وقت دیا جب نعیم آرائیں نامی ایک شخص کو کئی روز تک مبینہ طور پر پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں رکھنے کے معاملے کی سماعت ہو رہی تھی۔

نعیم آرائیں نے چیف جسٹس کو ایک درخواست میں بتایا تھا کہ انہیں پولیس اہلکاروں نے اپنے نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ عدالت نے از خود کارروائی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

بدھ کے روز صوبہ سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل قاضی خالد اور ڈی آئی جی میرپورخاں سلیم اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چار پولیس انسپیکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر کے ان پر مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اُس دوران نعیم آرائیں بھی عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار پولیس اہلکار ان کی خواتین کو اغواء کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

چار پولیس انسپیکٹروں کی برطرفی
 سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل قاضی خالد اور ڈی آئی جی میرپورخاں سلیم اللہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ چار پولیس انسپیکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر کے ان پر مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے

ان کے مطابق دھمکیوں کے پیش نظر انہوں نے اپنے اہل خانہ کی بیشتر خواتین اور بچوں کو اپنے آبائی شہر جہلم بھجوا دیا ہے۔

عدالت نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ وہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر صوبے میں قائم پولیس اور جاگیرداروں کے نجی جیلوں کا پتہ لگائیں اور انہیں ختم کر کے عدالت کو رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے بعد میں نعیم آرائیں کے معاملے میں از خود کارروائی کا معاملہ نمٹا دیا۔

دریں اثنا سپریم کورٹ نے منوں بھیل کے اہل خانہ کے اغوا کے مقدمے کی بھی سماعت کی اور مبینہ اغوا میں ملوث زمیندار عبدالرحمٰن مری کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مؤ کل کو پیر چھبیس جون کو عدالت میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ منو بھیل صوبہ سندھ کے ایک کسان ہیں اور ان کے خاندان کے سات افراد اور ان کے ایک مہمان کو اپریل انیس سو اٹھانوے میں اغوا کرلیا گیا تھا۔

جنوری سن دوہزار تین سے حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھیت مزدور منو بھیل تاحال احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس عرصے میں حکومت، عدالتوں اور انسانی حقوق کے بیشتر فورمز پر بھی گئے لیکن تاحال انہیں انصاف نہیں ملا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سوئیڈن کے ایک شہری توبوروگ اساکسن کی شکایت پر از خود کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ کا از خود نوٹس
21 June, 2006 | پاکستان
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد