آٹھ غیرملکیوں کی ملک بدری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی صوبہ سرحد میں غیرملکی شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں گرفتار ہونے والے آٹھ غیرملکیوں کو سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی درخواست پر یہ حکم جاری کرتے ہوئے ان کی درخواست نمٹادی ہے۔ ان آٹھ غیرملکیوں میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کا تعلق مصر سے ہے جس میں فاروق سعد احمد، ان کی بیوی اور بچے شامل ہیں جبکہ دو تاجک شہری ہیں۔ عدالت نے پاکستان حکومت کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ افراد کے ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کرکے انہیں اپنے وطن بھجوایا جائے۔ عدالت نے صوبہ سرحد کے ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔ پروفیسر محمد ابراہیم نے درخواست میں کہا تھا کہ ان مصری اور تاجک باشندوں کو نامکمل سفری دستاویزات کی بنا پر چارسدہ سے گرفتار کرکے ’فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی’ یعنی ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔
سینیٹر پروفیسر ابراہیم خود عدالت میں پیش ہوئے اور بینچ کو بتایا کہ متعلقہ غیرملکی کئی برسوں سے پاکستان میں رہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں پاکستان بہت ساری وجوہات کی بنا پر بدنام ہورہا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیرملکی شدت پسندوں کو بعض تنظیمیں پناہ دیتی ہیں۔ بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر نے کہا کہ انہوں نے آٹھوں غیرملکیوں کو اپنے وطن بھجوانے کے لیے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا اور انہوں نے بعد میں اس خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاروق سعد احمد اور ان کے بچے روانی سے پشتو بولتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے دوبچے بینائی سے محروم ہیں۔ | اسی بارے میں لاہور سے بارہ غیر ملکی طلباء گرفتار02 July, 2004 | پاکستان لاہور:234 غیر ملکی زیر حراست10 August, 2004 | پاکستان سندھ: غیرقانونی تارکین وطن21 September, 2004 | پاکستان غیر ملکیوں کی حفاظت کےلیےسیل08 November, 2004 | پاکستان شمالی وزیرستان: غیرملکی گرفتار 22 August, 2005 | پاکستان ’غیرملکی مرنے کا ثبوت نہیں‘21 January, 2006 | پاکستان غیر ملکیوں کا انخلاء شروع14 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||