BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹھ غیرملکیوں کی ملک بدری

بیشتر غیرملکی افغان جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں بس گئے
پاکستان کے شمالی صوبہ سرحد میں غیرملکی شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں گرفتار ہونے والے آٹھ غیرملکیوں کو سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی درخواست پر یہ حکم جاری کرتے ہوئے ان کی درخواست نمٹادی ہے۔

ان آٹھ غیرملکیوں میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کا تعلق مصر سے ہے جس میں فاروق سعد احمد، ان کی بیوی اور بچے شامل ہیں جبکہ دو تاجک شہری ہیں۔

عدالت نے پاکستان حکومت کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ افراد کے ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کرکے انہیں اپنے وطن بھجوایا جائے۔ عدالت نے صوبہ سرحد کے ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔

پروفیسر محمد ابراہیم نے درخواست میں کہا تھا کہ ان مصری اور تاجک باشندوں کو نامکمل سفری دستاویزات کی بنا پر چارسدہ سے گرفتار کرکے ’فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی’ یعنی ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔

غیرملکیوں کو پناہ کون دیتا ہے؟
 دنیا میں پاکستان بہت ساری وجوہات کی بنا پر بدنام ہورہا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیرملکی شدت پسندوں کو بعض تنظیمیں پناہ دیتی ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس
متعلقہ ایجنسی نے پوچھ گچھ کے بعد ان کا چالان عدالت میں پیش کیا اور ٹرائل کورٹ نے بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔ رہائی کے بعد سے آٹھوں غیرملکی باشندے جماعت اسلامی کی الخدمت نامی تنظیم کی جانب سے پشاور میں فراہم کردہ ایک مکان میں رہتے ہیں۔

سینیٹر پروفیسر ابراہیم خود عدالت میں پیش ہوئے اور بینچ کو بتایا کہ متعلقہ غیرملکی کئی برسوں سے پاکستان میں رہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں پاکستان بہت ساری وجوہات کی بنا پر بدنام ہورہا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیرملکی شدت پسندوں کو بعض تنظیمیں پناہ دیتی ہیں۔

بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر نے کہا کہ انہوں نے آٹھوں غیرملکیوں کو اپنے وطن بھجوانے کے لیے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا اور انہوں نے بعد میں اس خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فاروق سعد احمد اور ان کے بچے روانی سے پشتو بولتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے دوبچے بینائی سے محروم ہیں۔

اسی بارے میں
لاہور:234 غیر ملکی زیر حراست
10 August, 2004 | پاکستان
سندھ: غیرقانونی تارکین وطن
21 September, 2004 | پاکستان
غیر ملکیوں کا انخلاء شروع
14 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد