غیر ملکیوں کی حفاظت کےلیےسیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے ملک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی حفاظت کے لیے وزارت داخلہ میں’سپیشل سیکورٹی سیل‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی صدارت میں ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ یاد رہے کہ ملک کے شمالی صوبہ سرحد میں تعمیر ہونے والے گومل زام ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجنیئرز کو کچھ ہفتے قبل اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں ایک انجنیئر کو قتل بھی کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد حکومت مسلسل ملک کے اندر کام کرنے والے غیر ملکیوں کو ہر ممکنہ حفاظتی انتظامات کرنے کا یقین دلاتی رہی ہے اور اب یہ سیل قائم کرنے کا اعلان ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق یہ خصوصی سیل چاروں صوبائی حکومتوں سے قریبی رابطہ رکھے گا اور ملک بھر میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے غیرملکیوں کی حفاظت کے انتظامات کی نگرانی کرے گا۔ وزارت میں پہلے ہی ’کرائیسس مینیجمینٹ سیل‘ کے نام سے ایک سیل قائم ہے اور اب غیر ملکیوں کی حفاظت کے لیے ایک اور سیل قائم کیا جا رہا ہے جس کے سربراہ وزارت کے ہی سینیئر افسر ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||