ہلاک شدہ چینی کیلئے معاوضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے حال ہی میں اغوا ہونے والے چینی انجینیئرز کے لیے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے چینی انجینیئر وانگ پھینگ کی میت بیجنگ لے جانے والے وزیر مملکت برائے خارجہ امور خسرو بختیار اعلان کردہ امداد کے چیک متعلقہ چینی انجینیئرز کے اہل خانہ کے حوالے کر رہے ہیں۔ کچھ دن قبل صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل زام ڈیم پر کام کرنے والے دو چینی انجینیئرز کو اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کاروں کے سرغنہ عبداللہ محسود سے حکومت نے مذاکرات کیے اور ان کے پاس جرگے بھیجے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلنے کے بعد ان کی بازیابی کے لیے فوجی کاروائی کی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق فوجی کاروائی میں پانچوں اغوا کار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک چینی انجینیئر شدید زخمی ہوگئے تھے جو بعد میں چل بسے تھے۔ پاکستان حکومت نے چینی انجینیئرز کی اغوا کو دونوں ممالک کی دیرینہ اور ان کے مطابق پائیدار دوستی کو نقصان پہنچانے کا عمل قرار دیا تھا۔ ہلاک ہونے والے چینی انجینیئر کو پاک فوج کے ایک دستے نے سلامی دی تھی اور مکمل اعزاز کے ساتھ سنیچر کے روز بیجنگ روانہ کیا گیا تھا۔ چین کے صدر اور وزیر اعظم کو پاکستان کے ان کے ہم منصبوں نے فون کرکے دلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ چینی وزیراعظم کے مطالبے پر پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینیئرز اور ماہرین کے لیے اب حکومت نے فول پروف سیکورٹی انظامات کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||