چینی انجینیئر اغوا: کس کو کیا ملا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو چینی باشندوں اور ان کے پاکستانی محافظ کے اغوا کے چار روز طویل ڈرامہ کا جان لیوا ڈراپ سین تو خدشات کے مطابق ہوگیا لیکن اس سے اغوا کاروں کو کیا ملا۔ تھوڑی شہرت اور تھوڑا ذرائع ابلاغ میں وقت لیکن اس سے زیادہ شاید کچھ نہیں۔ دوسری جانب حکومت بھی کسی بڑی کامیابی کا دعوی کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خصوصاً مغربی دنیا میں تو پہلے ہی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کوئی بھی ہلاک یا گرفتار ہو القاعدہ کا غیرملکی شدت پسند تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ اب مقامی سطح پر بھی عبداللہ اور اس کے ساتھی اپنے محسود قبائل کی حمایت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان کے جرگے اور درخواستیں نامنظور کر کے عبداللہ محسود نے اپنے آپ کو اکیلا کر لیا ہے۔ وہ ایک مستحکم پوزیشن سے گر کر بظاہر بے یارو مددگار رہ گیا ہے۔ اس کے قبیلے نے اس کے خلاف عسکری کارروائی کی حمایت پہلے ہی کر دی تھی۔ عبداللہ محسود کے ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اور اس کا گروپ بنیادی طور پر ایک جنگجو ٹولہ ہے جسے سیاست کے پیچ و خم نہیں آتے۔ وہ ایک منجھا ہوا لڑاکا انسان تو ہوسکتا ہے لیکن کامیاب مذاکرات کار نہیں۔ اگر وہ چاہتا تو ’کچھ لو کچھ دو’ کے اصول کا سہارا لے کر دو چینیوں کو رہا کر کے اپنے پانچ ساتھیوں کی زندگی بچا سکتا تھا۔ لیکن ان جیسے لوگوں کا زندگی بچانا شاید مقصد اور ہدف ہی نہیں رہا۔ وہ بقول اس کے اپنی زندگیاں ہتھیلیوں پر رکھے اپنی اسلامی سوچ اور خیالات کے تابع ہوکر بے خوف اور خطر میدان میں نکلے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے نہ آگے بظاہر کچھ ہے اور نہ کچھ پیچھے جس کی خاطر وہ زندگی سے پیار کریں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے چار روز پر محیط مذاکرات میں ایک مرتبہ بھی بارگینگ کا نہیں سوچا۔ پہلے دن سے اس کا مطالبہ اغوا کاروں کے لیے محفوظ راستہ تھا اور آخر تک وہی رہا۔ اس مانگ سے وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اگر یہ اغوا کا ڈرامہ طول پکڑتا تو شاید عبداللہ اینڈ گروپ کا مقصد قدرے حل ہوجاتا کہ یہ لوگ اپنے مسائل اور تکالیف دنیا تک پہنچا سکتے۔ صرف ان چار دنوں کے عبداللہ کے بےباک بیانات اور انٹرویوز سے حکومت کافی ’تپی’ ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے اس نے قومی ذرائع ابلاغ کو متنبہ کیا کہ وہ ان کو بطور ہیرو بنا کر پیش نہ کرے۔ اس تمام صورتحال میں تعجب انگیز بات صحافتی برادری کی خاموشی تھی۔ مقامی صحافی پہلے ہی حکومت پر قبائلی علاقوں میں جاری کارروائیوں کی یکطرفہ کوریج کا الزام لگاتی ہے لیکن اس تازہ دھمکی پر سب خاموش رہے۔ خیر اغوا کاروں کو اس ڈرامے کے دوران بقول حکومت ’میڈیا سے زیادہ کھیلنے کا موقعہ نہیں ملا’۔ شاید حکومت کو مذاکرات کے عمل کے خاتمے کے فوراً بعد کمانڈو کارروائی کا مقصد بھی یہی تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس ڈرامہ کو زیادہ طول دیا جائے۔ تاہم حکومت کا اس ڈرامے کے ڈراپ سین کے ساتھ رویہ کچھ زیادہ قابل تحسین نہ رہا۔ اغوا کاروں کی ہلاکت کے مقابلے میں ایک چینی کی جان کھونا کوئی زیادہ قابل رشک کارکردگی معلوم نہیں ہوتی۔ پھر اس سے زیادہ حیرت کی بات چینیوں کے پاکستانی محافظ عصمت اللہ گنڈاپور کی رہائی کی پیشکش سے فائدہ نہ اٹھانا ہے ۔ ہاسٹیج کراسیس میں حکومت کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ اغوا کاروں سے رابطہ استوار کر کے یرغمالیوں کو رہا کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں صورتحال یکسر مختلف تھی۔ اغوا کار پاکستانی کو رہا کرنا چاہتے تھے لیکن حکام اسے لینے کو تیار نہیں تھے۔ اگر آخری وقت میں گولیوں کے تبادلے میں انہیں بھی نقصان پہنچتا تو ذمہ دار کون ہوتا۔ شاید کوئی بھی نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سارے واقعے میں نا تو حکومت اور نہ ہی اغوا کار کچھ حاصل کر سکے۔ دونوں کو ہی خفت اور نقصان اٹھانا پڑا۔ شاید اس اغوا کے ڈرامے کے کرداروں کی وجہ سے اس کا انجام یہی تھا۔ لیکن عبداللہ اب بھی آزاد ہے اور وزیرستان کے پہاڑوں میں گھوم رہا ہے۔ اس کا اگلا قدم کیا ہوگا اس کے لیے ہمیں شاید زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||