اغوا: پیش رفت نہیں ہوئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں دوسرے روز بھی دو چینی باشندوں کے اغوا کاروں اور حکومت کے درمیان رہائی کے لئے بات چیت میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ اغوا کاروں نے اپنے چند ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن ایک مقامی جنگجو کمانڈر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں اغوا ہونے والے دو چینی باشندوں اور ان کے پاکستانی محافظ کی رہائی کے لئے کوششیں اتوار کو بھی جاری رہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مقامی قبائلی سرداروں کے ذریعے اغوا کاروں سے ان کی رہائی کے لئے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بتایا کہ اغوا کار ’جن پر انہیں القاعدہ سے تعلق کا شک ہے‘ اپنے چند گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ البتہ ابھی انہوں نے اس سلسلے میں کوئی فہرست انہیں نہیں دی۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں کے ایک کمانڈر عبداللہ محسود نے القاعدہ سے متعلق سرکاری دعویٰ رد کرتے ہوئے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ عبداللہ کے مطابق اغوا کار سیکیورٹی دستوں کے محاصرے میں ہیں البتہ مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ قبائلیوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اغوا کاروں نے کسی کارروائی کی صورت میں چینیوں کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں سے مذاکرات کے لیے انہوں نے قبائلیوں پر مشتمل ایک وفد روانہ کیا ہے جو آخری اطلاعات تک کسی نامعلوم مقام پر بات چیت میں مصروف تھا۔ شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ مطالبات واضع ہونے کے بعد ہی حکومت اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے گی۔ جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی دستے گزشتہ دو برسوں سے القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم یہ اس دوران کسی غیر ملکی کے اغوا کا پہلا واقعہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق چینی کمپنی سائنو ہائڈرو کارپوریشن کے تقریباً ساٹھ کے قریب گومل زام ڈیم جنوبی وزیرستان میں واقع دریائے گومل پر ڈیرہ اسماعیل خان سے تقریباً پچھہتر کلومیٹر دور تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی اہلکار پانچ گاڑیوں کے ایک قافلے کی شکل میں ڈیم کے لئے صبح آٹھ بجے روانہ ہوئے۔ ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان حبیب الرحمان کے مطابق ان میں چار گاڑیاں اپنی منزل پر پہنچ گئیں لیکن ایک لاپتہ ہوگئی۔ جی ایف 723 نمبر کی اس لاپتہ گاڑی میں حکام کے مطابق ایک چینی انجینیر، اس کا چینی ڈرائیور اور ایک پاکستانی سپاہی سوار تھے۔ اس گمشدگی کے چند گھنٹوں بعد گاڑی بندوبستی علاقے ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے درمیان سرحدی علاقے سے برآمد کرلی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||