ڈیرہ اسماعیل خان: دو چینی اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے جنوبی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کی تعمیر کر رہے دو چینی کارکنوں کو سنیچر کی صبح ان کے پاکستانی محافظ سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔ گومل زام ڈیم جنوبی وزیرستان میں واقع دریائے گومل پر ڈیرہ اسمعیل خان سے تقریبا پچھتر کلومیٹر دور تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے ایک سرکاری چینی کمپنی سائنو ہاڈرو کارپوریشن کے اہلکار پانچ گاڑیوں کے ایک قافلے کی شکل میں ڈیم کے لیے صبح آٹھ بجے روانہ ہوئے۔ ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان حبیب الرحمان کے مطابق ان میں چار گاڑیاں اپنی منزل پر پہنچ گئیں لیکن ایک لاپتہ ہوگئی۔ جی ایف 723 نمبر کی اس لاپتہ گاڑی میں حکام کے مطابق ایک چینی انجینئیر، اس کا چینی ڈرائیور اور ایک پاکستانی سپاہی سوار تھے۔ ان چینیوں کے نام وانگ انڈی اور وانگ ٹینگ جبکہ سپاہی کا عصمت اللہ بتایا جاتا ہے۔ اس گمشدگی کے چند گھنٹوں بعد گاڑی بندوبستی علاقے ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے درمیان سرحدی علاقے سے برآمد کرلی گئی۔ البتہ ان تین افراد کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے انہیں اغوا کر لیا گیا ہے اور انہیں شک ہے کہ اس میں فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے مقامی یا غیرملکی جنگجوؤں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضع نہیں کہ اغوا کار کون تھے اور ان کا چینیوں کو یرغمال بنائے جانے کا مقصد کیا ہے۔ محسود جنگجوؤں کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ بندوبستی اور قبائلی علاقے کے اہلکار اس واقعے کے ایک دوسرے کے علاقے میں رونما ہونے کا دعوی کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ اغوا کارؤں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی دستے گزشتہ دو برسوں سے القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ چین کی جانب پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی دوستانہ جذبات پائے جاتے ہیں لیکن اس سے قبل اس سال مئی میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بھی ایک بم دھماکے میں تین چینی ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||