چینی مغویوں کی رہائی پر مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چینی انجینیئروں کو اغوا کرنے والوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور ان سے مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے صحافی سعید اللہ خان کی اطلاع کے مطابق رکنِ قومی اسمبلی مولانا معراج الدین، پولیٹیکل افسر عبدالکمال خٹک اور مقامی قبائلی سردار مذاکرات کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے اپنے پانچ یا چھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو پولیٹیکل حکام کی حراست میں ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اغوا کار پشتو زبان بولتے ہیں اور ان میں دو اپنے حلیے سے افغان نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سرحد کے جنوبی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کی تعمیر کر رہے دو چینی کارکنوں کو سنیچر کی صبح ان کے پاکستانی محافظ سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔ گومل زام ڈیم جنوبی وزیرستان میں واقع دریائے گومل پر ڈیرہ اسمعیل خان سے تقریباً پچھہتر کلومیٹر دور تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے ایک سرکاری چینی کمپنی سائنو ہاڈرو کارپوریشن کے اہلکار پانچ گاڑیوں کے ایک قافلے کی شکل میں ڈیم کے لیے صبح آٹھ بجے روانہ ہوئے۔ ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان حبیب الرحمان کے مطابق ان میں چار گاڑیاں اپنی منزل پر پہنچ گئیں لیکن ایک لاپتہ ہوگئی۔ جی ایف 723 نمبر کی اس لاپتہ گاڑی میں حکام کے مطابق ایک چینی انجینئیر، اس کا چینی ڈرائیور اور ایک پاکستانی سپاہی سوار تھے۔ ان چینیوں کے نام وانگ انڈی اور وانگ ٹینگ جبکہ سپاہی کا عصمت اللہ بتایا جاتا ہے۔ اس گمشدگی کے چند گھنٹوں بعد گاڑی بندوبستی علاقے ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے درمیان سرحدی علاقے سے برآمد کرلی گئی۔ تاہم ابھی تک یہ واضع نہیں کہ اغوا کار کون تھے اور ان کا چینیوں کو یرغمال بنانے کا مقصد کیا ہے۔ محسود جنگجوؤں کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی دستے گزشتہ دو برس سے القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ چین کی جانب پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی دوستانہ جذبات پائے جاتے ہیں لیکن اس سال مئی میں بھی بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک بم دھماکے میں تین چینی ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||