 |  سورج کی کمی میں کمی آتی ہوتی جا رہی ہے |
گزشتہ پچاس برس سے سورج کی روشنی کی پیمائش کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر نئے دن سورج کی روشنی کم ہوتی جا رہی ہے۔ سائنسدان اس پریشان کن نتیجے پر یہ کہتے ہوئے پہنچے ہیں کہ شمسی توانائی ماضی کی نسبت زمین کی سطح پر پہنچنتے پہنچتے بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ نورِ آفتاب میں کمی کا مطلب یہ ہو گا کہ معاشروں کو عالمی حدت کا خطرہ اس سے بہت زیادہ ہے جتنا سوچا جا رہا تھا۔ سورج کی روشنی میں درجہ بہ درجہ کمی کو سب سے پہلے اسرائیل میں قیام پذیر برطانوی سائنسدان گیری سٹینہل نے محسوس کیا۔ انہوں نے اسرائیل میں سورج کی روشنی کے پچپن سالہ ریکارڈ کا مطالعہ کیا اور وہ یہ جان کر ششدر رہ گئے کہ سورج کی روشنی میں بائیس فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ گیری سٹینہل نے اس موقع پر دنیا کے دیگر مقامات پر سورج کی روشنی کا مطالعہ کیا اور ہر بار تقریباً ایک ہی سے نتائج سامنے آئے۔ امریکہ میں سورج کی روشنی میں دس فیصد، سابق سوویت یونین کے بعض علاقوں میں تیس فیصد اور جزائر برطانیہ کے بعض حصوں میں سورج کی روشنی میں سولہ فیصد تک کمی ہو چکی ہے۔ گیری سٹینہل نے اپنی تحقیق سے متعلق تفصیلات سن دو ہزار ایک میں شائع کیں جن پر ابتداً شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ لیکن حال ہی میں آسٹریلوی سائنسدانوں نےگیری سٹینہل کے اخذ کردہ نتائج کی تصدیق کر دی ہے۔ سورج کی روشنی میں کمی کی وجہ بظاہر آلودگی کو بتایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک رائے یہ بھی ہے سورج کی روشنی میں کمی کے سبب ہی صحرائے اعظم کے زیریں علاقے قحط کا شکار ہوئے۔ |