سورج کے ذرات لانے والا کیپسول تباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سورج سے نکلنے والے ذرات جمع کر کے زمین پر لانے والے جنیسِس خلائی مشن سے بھیجا گیا کیپسول امریکہ میں پیراشوٹ نہ کھلنے کے سبب زمین سے ٹکرا گیا۔ یہ کیپسول مقررہ وقت، 1555 جی ایم ٹی، پر زمین کی فضا میں داخل ہوا لیکن اس سے جڑا ہوا پیراشوٹ نہیں کھول سکا اور وہ زمین سے ٹکرا گیا۔ کیپسول کو فضا میں پکڑنے کے لیے ہالی وڈ کے سٹنٹ پائلٹ فضا ہیلی کاپٹروں پر موجود تھے تاکہ کیپسول کا بہ سہولت زمین پر اتار سکیں۔ سائنسدان شمسی ہواؤں سے جمع کیے ہوئے ان ذرات پر تحقیق کرکے سورج اور سیاروں کے آغاز اور ارتقاء کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے تھے۔ اس کیپسول میں موجود ذرات کو جمع کرنے میں تحقیقاتی خلائی جہاز جنیسِس نے خلاء میں تین سال صرف کیے تھے۔ امریکی ریاست یوٹا میں جہاں کیپسول کو پیراشوٹ کے ذریعہ اترنا تھا سائنس دانوں کو یہ دیکھ کے یقین نہیں آیا کہ کیپسول چکر کھاتا ہوا چلا آرہا ہے۔ پیراشوٹ نہ کھلنے کی وجہ سے کیپسول دو سو میل فی گھنٹے کی رفتار سے ریگستان میں گرا اور ریت میں دھنس کے ٹوٹ گیا۔ اس کے اندر بہت نازک پلیٹوں پر اربوں کی تعداد میں ذرات تھے، اگر پلیٹیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں تو سورج کے ذروں میں ریت اور دھول مل گئی ہوگی۔ لیکن ناسا کے سائنس داں بہت مایوس نہیں ہیں۔ ایک اخباری کانفرنس میں ناسا کے ترجمان نے کہا کہ اس واردات پر افسوس تو بہت ہے لیکن اسے سانحہ نہیں کہا جاسکتا، سانحہ وہ ہوتا جب کیپسول کسی چٹان سے ٹکراتا اور پاش پاش ہو جاتا۔ اب ہم اپنے اس منصوبے پر کام شروع کریں گے جو ہم نے ایسے ہنگامی حالات کے لیے تیار کررکھا ہے۔ اگر کچھ شمسی ذرات صحیح سالم مل گۓ تو بہت اچھا ہو گا ورنہ شاید پورا مشن دوبارہ شروع کرنا پڑے گا۔ صرف مسئلہ یہ ہے کہ اس ناکام مشن پر چھبیس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ دوسرے جنیسِس کے لیے اتنا سرمایہ کہاں سے آئے گا ۔ اس ناکام مشن کا اثر دوسرے پروگراموں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ مثلاً مریخ کے تحقیقاتی مشن پر۔ آجکل دو خلائی گاڑیاں مریخ کی سطح پر تحقیقات میں مصروف ہیں اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگلے دس بارہ سال میں ممکن ہیں کہ مریخ کی سطح کے نمونے بھی زمین پر منگوائے جائیں۔ اس کام پر اربوں ڈالر کا خرچ آئے گا۔ اب اس ناکامی کے بعد سوال اٹھے گا کہ کیا اس کوشش کا کوئی فائدہ ہوگا؟ کیا عین وقت پر کوئی حادثہ پوری کوشش کو بے سود تو نہیں بنا دے گا؟ اس واقعہ سے ایک بحث اور بھی تازہ ہو جائے گی کہ کیا تحقیقاتی مشن پر بڑی بڑی رقومات صرف کرنی ضروری ہیں؟ کیا ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ کم قابل اعتبار لیکن سستے پروگرام شروع کیے جائیں۔ سچ یہ ہے کہ چھبیس کروڑ ڈالر کے اس پروگرام میں ایک پیراشوٹ کے نہ کھلنے کی وجہ سے سارا کام دھرا کا دھرا رہ گیا جبکہ پیراشوٹ پر صرف ایک ڈالر خرچ ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||