سب سے بلند پرواز کی کوشش کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلاء کی جانب سفر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پرائیویٹ جہاز نے آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے زمین سے سو کلومیٹر کی بلندی تک کا کامیاب سفر کرلیا ہے۔ ’سپیس شپ ون‘ نامی اس جہاز کو دس ملین ڈالر کا انعام جیتنے کی لیے آئیندہ دو ہفتوں کے دوران ایک مرتبہ پھر اس بلندی تک پرواز کرنا ہوگی۔ سپیس شپ ون کو ایک ہوائی جہاز کی مدد سے تقریباً چودہ کلومیٹر کی بلندی تک پہنچایا گیا تھا۔جہاز سے رابطہ ختم ہونے کے بعد چند لمحے کی لیے خلائی جہاز ڈگمگایا لیکن پائلٹ مائیک میلول نے جلد ہی صورتِ حال پر قابو پا لیا اور خلائی جہاز کو خلاء کی جانب اڑاتے لے گئے۔ دو عدد غیرسرکاری ریڈنگ کے مطابق جہاز زمین کی سطح سےایک سو کلومیٹر کی حدود کو عبور کرنے میں کامیاب رہا، تا ہم مقابلہ کے منتظمین اس بات کی تصدیق جہاز میں لگے ہوئے آلات کو دیکھنے کی بعد کر سکیں گے۔ سپیس شپ ون اور وائیٹ نائٹ نامی ہوائی جہاز، جس کی مدد سے سپیس شپ کو زمین سے چودہ کلومیٹر کی بلندی تک پہنچایا گیا تھا، کو بنانے کااعزازایویشن کی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت برٹ روٹن کو حاصل ہے۔اس کے علاوہ مائیکروسوفٹ کے بانی پال ایلن نے بھی اس منصوبہ میں برٹ روٹن کاساتھ دیا ہے۔ پا ئیلٹ مائیک میلول کے بقول سپیس شپ ون کی پرواز نہایت دلچسپ رہی اور شروع کے چند سکینڈ کے علاوہ انہیں کسی خاص دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔تا ہم وہ اس بات پر قدرے حیران ضرور ہیں کہ خلائی جہاز کے انجن سفر کے آخری چند سکینڈ میں بند کر دینے کے باوجود کام کرتے رہے۔ برٹ روٹن، جو سپیس شپ ون کی کامیاب پرواز کے اختتام پر جمع ہجوم سے باتیں کر رہے تھے، اپنی تخلیق پر بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جہاز کے انجن میں کسی قسم کی کوئی بڑی خرابی سامنے نہیں آئی ہے اور وہ جہاز کی دوسری کا میاب پرواز کے لیے بہت پرامید ہیں۔ اگر سپیس شپ ون آئندہ دو ہفتوں میں اپنی دوسری پرواز کامیابی سے مکمل کر لیتا ہے تو یہ اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ ہو گا کہ جب نجی طور پر تیار کیا ہوا ایک خلائی جہاز زمین سے سو کلو میٹر کی بلندی تک پرواز کر کے خلاء کی حدوں کو چھوئے گا۔ اس ممکنہ کامیابی کی صورت میں برٹ روٹن اور ان کے ساتھی دس ملین ڈالر کی مالیت کے ایکس پرائز نامی انعام کے حقدار قرار پائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||