| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلیلیو کا آخری سفر
امریکی خلائی ادارہ ناسا اپنے خلائی جہاز گلیلیو کو سیارہ مشتری سے ٹکرانے والا ہے جس کے بعد اس تحقیقی جہاز کا چودہ برس سے جاری سفر اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ مشتری کے راستے میں گلیلیو نے پہلی مرتبہ شہابیوں کی بہت قریب سے بنائی گئی تصاویر بھی زمین پر بھیجیں۔ مشتری کے مدار میں پہنچنے کے بعد سے گلیلیو نے اس سیارے کی فضا اور اس کے گرد قائم مقناطیسی حصار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مشتری کے گرد گردش کرنے والے چاندوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ ان چاندوں میں سے کم از کم ایک چاند، جس کا نام یوروپا ہے، اس کی سطح کے نیچے برف کا ایک پورا سمندر موجود ہے جو زندگی کے لیے سازگار ہو سکتا ہے۔
اس اقدام کا بڑا مقصد یہ ہے کہ گلیلیو مشتری کے کسی چاند سے نہ ٹکرا جائے کیونکہ ایسی صورت میں ان چاندوں پر زندگی کی تکلاش میں جاری مستقبل کی تحقیق متاثر ہو گی اور چاندوں کی فضاء زمین سے جانے والے جرثوموں سے آلودہ نہ ہو۔ گلیلیو اپنے سفر کے دوران اب تک تین ارب میل کا سفر طے کر چکا ہے اور اس مشن کو خلائی تحقیق کی تاریخ میں سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا۔ خلائی تحقیق سے وابستہ محققین اور سائنسدانوں کے گلیلیو مشن کے اختتام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم گلیلیو سے حاصل شدہ تفصیلات کی بنیاد پر سائنسدان برسوں تک مشتری کے بارے میں اپنی تحقیق جاری رکھ سکیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |