’زیکا وائرس کے باعث اولمپکس ملتوی کرنے کی ضرورت نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
عالمی ادارۂ صحت نے ریو اولمپکس کے دوران زیکا وائرس کے پھیلنے کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگست میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں کو ملتوی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے اعلیٰ عہدیدار بروس ایلورڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’خطرے کا جائزہ لینے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے اور انھوں نے اس بات کو بار بار دہرایا کہ کھیلوں کے اس مقابلے کو ملتوی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
ریو کے میئر کا کہنا ہے کہ زیکا وائرس پھیلانے والے مچھروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے یہ ردعمل سائنسدانوں کے گروپ کے طرف سے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو لکھے گئے خط کے بعد آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ زِیکا وائرس کے بارے میں نئی دریافت کے بعد ان کھیلوں کو جاری رکھنا ’غیر اخلاقی‘ ہوگا۔
اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کو زیکا وائرس کے حوالے سے اپنی ہدایات کا دوبارہ سے جائزہ لینا چاہیے۔
خیال ہے کہ اس وائرس سے حمل کے دوران بچوں میں شدید پیدائشی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فروری اور اپریل کے درمیان برازیل میں 90 ہزار سے زیادہ زیکا وائرس کے ممکنہ کیسسز سامنے آئے۔جبکہ اپریل میں زیکا وائرس سے جڑے نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 4،908 رہی۔
ڈاکٹر ایلورڈ نے مزید بتایا ہے کہ خودمختار ماہرین نے ڈبلیو ایچ او کو سفر اور تجارت کے لیے اس وبا سے متعلق مضمرات سے آگاہ کیا ہے۔
دوسری جانب انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کا کہنا ہے کہ انھیں مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری کے باعث کھیلوں کے مقابلے کو ملتوی یا کسی اور جگہ منتقل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
بروس ایلورڈ نے کہا کہ ’مستقبل میں اولمپکس مقابلوں کو ملتوی کرنے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے لیکن اس وقت موجودہ معلومات کے مطابق کھیلوں کو ہونا چاہیے۔‘
’اس موقع پر ان کھیلوں کو ملتوی کرنا اولمپکس کے ان زبردست مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں اور دیگر افراد نے جو تیاریاں کر رکھی ہیں سے بڑا سمجھوتا ہوگا۔‘







