زیکا وائرس میں ’خطرناک حد‘ تک اضافے کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہ.
عالمی ادارہ صحت نے آئندہ چند مہینوں کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں زیکا وائرس میں خطرناک حد تک اضافے کے خطرے کا اظہار کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل میری پاؤلے کینی کا کہنا ہے کہ یورپ میں مچھر کی افزائش کے موسم کا آغاز ہوگیا ہے اور اِس دوران جنسی تعلقات قائم کرنا وائرس میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔
کینی پیرس میں بین الاقوامی سائنسی کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ اِس کانفرنس میں دنیا بھر سے چھ سو سے زائد ماہرین اور زیکا وائرس پر تحقیق کرنے والے افراد شامل ہیں۔
حال ہی میں سائنسی رسالے ای لائف میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی نقشے کے مطابق دنیا میں تقریباً سوا دو ارب لوگ ایسے علاقوں میں آباد ہیں جہاں زیکا وائرس پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔
زیکا وائرس Aedes aegypti نامی اک خاص مچھر سے پھیلتا ہے اور اس برس یہ عالمی سطح پر ایک خطرناک وبا کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن علاقوں میں زیکا وائرس کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس کی نقشہ بندی اتنی آسان نہیں تھی جتنا یہ بتانا آسان تھا کہ یہ مچھر کہاں پنپ سکتا ہے۔
محققین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ جنوبی امریکہ کا ایک بہت بڑا ایسا علاقہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے جو فی الوقت اس وائرس کے پھیلاؤ کے باعث توجہ کا مرکز ہے۔
اس میں کہا گيا ہے کہ تقریباً سوا دو ارب لوگ جو ان مذکورہ علاقوں میں رہتے ہیں انھیں اس وائرس سے خطرہ لاحق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن علاقوں میں اس وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے اس میں جنوبی امریکہ کے طویل ساحلی علاقے اور وہ شہر شامل ہیں جو دریائے ایمازون کے آس پاس آباد ہیں۔







