امریکہ میں زیکا وائرس سے پیدائشی نقائص کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں بیماریوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ زیکا وائرس کی وجہ سے بچوں میں شدید پیدائشی نقائص پیدا ہوتے ہیں۔
بیماریوں کی روک تھام اور بچاؤ کے ادارے سی ڈی سی نے زیکا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری مائیکروسیفلی کی بھی تصدیق کی۔
برازیل میں پچھلے سال سینکڑوں ایسے بچے پیدا ہوئے جن کو مائیکروسیفلی کی بیماری تھی۔ یہ وہ مرض ہے جس میں بچے کا سر عام بچوں کے سروں کی نسبت غیر معمولی طور پر چھوٹا ہوتا ہے۔
مائیکروسیفلی کے کیسوں میں اسی وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب زیکا وائرس کے کیسوں میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ جس کے بعد سے ماہرین کو شک ہوا کہ دونوں کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے محکمہ صحت کے نمائندوں نے زیکا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کا امریکہ پر بہت برا اثر پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے مالی امداد میں اضافے کی بھی درخواست کی ہے۔
سی ڈی سی کی ڈاکٹر این شوچیٹ کا کہنا تھا کہ ’زیکا وائرس کے بارے میں جب ہمیں اور معلومات ملیں تو ہمیں احساس ہوا کہ یہ ہمارے اندازوں سےکہیں زیادہ خطرناک ہے۔‘

اس مرض کی تشخیص پہلی بار یوگینڈا میں سنہ 1947 میں ہوئی تھی لیکن اس کی علامتیں معمولی تھیں جیسے کہ جوڑوں کا درد جلد پر کھجلی یا بخار۔ لیکن سنہ 2015 میں برازیل میں اس وائرس کے موجودہ پھیلاؤ کی علامتیں بہت شدید ہیں۔ اب تک اس وائرس کی وجہ سے تقریباً 200 بچے مر چکے ہیں۔
تحقیق کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ کچھ بچے تو اس وائرس کی وجہ سے مر جاتے ہیں جب کہ دوسروں میں اس کے باعث پیدائشی نقص پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ خواتین نے بیماری کے باوجود صحت مند بچوں کو جنم دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی ڈی سی کے مطابق امریکہ میں اب تک زیکا وائرس کے 346 کیس سامنے آئے ہیں اور ان کے سب مریض وہی ہیں جنھوں نے ملک سے باہر سفر کیا تھا۔







