ایپل کا چینی ٹیکسی ایپ میں سرمایہ کاری کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty
ٹیکنالوجی کی معروف امریکی کمپنی ایپل نے چین میں ٹیکسی منگوانے والی ایپ دیدی چوشنگ میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایپل کو چین کی مارکیٹ کو بہتر سمجھنے کا موقع ملے گا۔
دیدی چوشنگ کا کہنا ہے کہ ایپل کی جانب سے دی گئی رقم ان کی کمپنی کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن میں ایک کروڑ دس لاکھ سواریوں کو سہولیات فراہم کرتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ چین کی 87 فیصد مارکیٹ ان کے پاس ہی ہے۔
کمپنی کو چین کی انٹرنیٹ کی بڑی کمپنیاں ’ٹین سینٹ‘ اور ’علی بابا‘ کی بھی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
امریکی کمپنی ’اوبر‘ چین میں سرچ انجن بائیدو کی سرمایہ کاری کے باوجود چین کی مارکیٹ پر حاوی نہیں ہو سکی۔
فروری میں اوبر نے اعتراف کیا تھا کہ انھیں چین میں ہر سال ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور سستی سواری کو مزید رعایت دینے پر بہت پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
بی بی سی کے چین کے نامہ نگار سٹیون میکڈونل کا کہنا ہے کہ دیدی چوشنگ کی ایپ سے پہلے چین میں ٹیکسی کے لیے سڑک پر کھڑا ہونا پڑتا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہاں دوسرے ملکوں کی طرح فون سے بکنگ کرنے کا نظام نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کسی ٹیکسی ڈرائیور کا نمبر ہوتا اور کال کر کے یہ پوچھ سکتے تھے کہ اگر اسی علاقےمیں ہو تو انھیں سواری دے دے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں میں جمعے کی رات سڑکوں سے ٹیکسی ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ساری ٹیکسیاں دیدی کے ذریعے سواریاں لے رہی ہوتی ہیں۔







