’ہمارا اندازہ ہے کہ اپیل گاڑی بنا رہا ہے‘

ایپل کی جانب سے گاڑی بنانے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہPasu Au Yeung FlickrCC

،تصویر کا کیپشنایپل کی جانب سے گاڑی بنانے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے

گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کے چیف ایگزیکیٹو مارک فیلڈز کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں ان کے کاروباری حریف جنرل موٹرز یا کرائسلر نہیں بلکہ گوگل اور ایپل ہو سکتے ہیں۔

اقتصادی امور کے لیے بی بی سی کے مدیر کمال احمد سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ اپیل کار کی تیاری میں مصروف ہے۔‘

گذشتہ ہفتے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ ایپل نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے نائب صدر برائے وہیکل انجینیئرنگ اور آسٹن مارٹن کے چیف انجینیئر کرس پورٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اپیل کی گاڑی کے منصوبے ’ٹائٹن‘ پر کام کریں گے۔

رواں برس کے آغاز میں ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے بھی کہا تھا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے معروف کمپنی ایپل بھی ان کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑی بنا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہApple Computer

خیال رہے کہ ایپل کی جانب سے گاڑی بنانے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے حال ہی میں گاڑیوں سے متعلق کئی انٹرنیٹ ڈومین جیسے کہ apple.car اور apple.auto رجسٹر کروائے ہیں۔

مارک فیلڈز نے کہا کہ فورڈ ایسی ’خودمختار‘ گاڑیوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو خود بخود چل سکیں اور وہ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے میدان میں معروف کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ بھی جائزہ لے رہی ہے کہ لوگوں کا اپنی گاڑیوں سے تعلق کیسا ہے۔

تاہم انھوں نے اس خیال کو رد کیا کہ ان کی کمپنی گوگل کے لیے گاڑیاں بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فورڈ ’کانٹریکٹ مینیوفیکچرر‘ نہیں ہے لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی کمپنی گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ منصوبوں پر ضرور کام کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ گوگل کی خود کار گاڑی کے منصوبے کے سربراہ کرس آرمسن نے گذشتہ برس اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اگلے پانچ برس میں یہ ٹیکنالوجی سڑکوں پر ہو۔

گوگل کی جانب سے رواں برس جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اپریل سنہ 2015 سے لے کر نومبر سنہ 2015 تک اس کی خودکار گاڑیوں نے بنا کسی حادثے کے 230,000 میل کا سفر طے کیا تھا۔