ٹوئٹر کے دس برس میں زندگیاں بدل گئیں

دس برس قبل جیک ڈورسی نے ’جسٹ سیٹنگ اپ مائی ٹوئٹر‘ جیسے الفاظ سے ٹوئٹر کا آغاز کیا تھا۔ پھر ٹوئٹر نامی یہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ لاکھوں لوگوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن گئی اور کچھ لوگوں کی تو اس نے زندگی ہی تبدیل کردی۔

140 حروف پر مشتمل شادی کی تجویز سے لیکر آرام دہ صوفے پر بیٹھے بیٹھے انقلاب برپا کرنے جیسی مختلف النوع کہانیاں لوگ گذشتہ دس برس سے ٹوئٹر پر شیئر کرتے رہے ہیں۔

جب امریکی شہری گریگ رویس کو اُن کی محبوبہ سٹیفنی نے ذاتی پیغام رسانی کی ایک سروس پر شادی کے متعلق سوال پر مسترد کردیا تو انھوں نے سٹیفنی سے غیر معمولی انداز میں شادی کی خواہش کے اظہار کے لیے انھیں ٹویٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شادی کی پیشکش ایک مذاق سے شروع ہوئی۔ میں سٹیفنی سے ایک فوری پیغام رسانی کی سائٹ پر بات کررہا تھا اور میں نے اُن سے پوچھا کیا وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے کبھی اُن سے باقاعدہ طور یہ بات نہیں پوچھی۔ جس کے بعد میں نے شادی کی پیشکش ٹوئٹر پر پوسٹ کردی اور سٹیفنی سے کہا کہ وہ اپنا صفحہ ریفریش (دوبارہ لوڈ) کریں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہی اس بات کا مناسب لمحہ تھا۔‘

امریکی شہری گریگ رویس نے سٹیفنی سے غیر معمولی انداز میں شادی کی خواہش کے اظہار کے لیے انھیں ٹوئٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا
،تصویر کا کیپشنامریکی شہری گریگ رویس نے سٹیفنی سے غیر معمولی انداز میں شادی کی خواہش کے اظہار کے لیے انھیں ٹوئٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا

اُن کے مطابق ’یہ بالکل حیرت انگیز بات تھی جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ ٹوئٹر پر شادی کی پہلی پیشکش تھی۔ اگر ہم جانتے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہورہا تھا تو ہم اسے زیادہ متاثر کُن بنادیتے۔ میں ہر چیز کی بہتر انداز میں منصوبہ بندی کرسکتا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اب ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارا وقت فینکس اور کیلیفورنیا میں گزرتا ہے۔ لیکن مجھے کام کے سلسلے میں بہت زیادہ سفر کرنا پڑتا ہے۔ ہم اب بھی ایک دوسرے سے منسلک رہنے کے لیے ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں اور دراصل ہم نے سنہ 2009 میں شادی کی پیشکش کے ایک سال بعد اپنی شادی کے متعلق خبر کو بھی براہ راست ٹوئٹ کیا تھا۔‘

جارجیا کے شہر ایٹلانٹا سے تعلق رکھنے والی سُمیتا ڈالمیا نے ٹوئٹر پر کی گئی چیٹ سے ہی اپنے سچے پیار کو تلاش کیا تھا

،تصویر کا ذریعہSumita Dalmia

،تصویر کا کیپشنجارجیا کے شہر ایٹلانٹا سے تعلق رکھنے والی سُمیتا ڈالمیا نے ٹوئٹر پر کی گئی چیٹ سے ہی اپنے سچے پیار کو تلاش کیا تھا

جارجیا کے ایک شہر ایٹلانٹا سے تعلق رکھنے والی سُمیتا ڈالمیا نے گذشتہ چند سالوں کے دوران ٹوئٹر کے ذریعے سے 10 ہزار ڈالر کی مالیت کے انعامات جیتے۔ تو یہ بات اُن کے خاندان اور دوستوں کے لیے تعجب کا باعث نہیں تھی جب ٹوئٹر پر کی گئی چیٹ (گفتگو) نے اُنھیں اُن کے سچے پیار سے ملادیا۔

سُمیتا نے بی بی سی کو بتایا ’ستمبر سنہ 2013 میں ایک دن میں ، اٹلانٹا کے چڑیا گھر میں ہونے والی سالانہ تقریب جازو کے لیے ٹوئٹر پر ٹکٹ کی تلاش میں تھی۔ میں نے ’جازو ٹکٹز‘ لکھا اور انوج پٹیل (جو اب میرے منگیتر ہیں) کا ٹوئٹ میرے سامنے نمودار ہوا۔‘

اُن کے مطابق ’انھوں نے پہلے ہی اپنا ٹکٹ چھوڑ دیا تھا لیکن ٹوئٹر پر اُن کی سوانح عمری نے میری توجہ مبذول کروالی کیوں کہ وہ کھیل اور تفریح کے شعبے میں کام کرتے تھے۔ جو ایک ایسا شعبہ تھا جس میں جانے کا مجھے بے حد اشتیاق تھا۔

انوج نے شہر کے مرکز میں ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر ہاتھوں میں ایک بڑا ٹوئٹ پوسٹر پکڑ کر اپنے گھٹنوں پر جُھک کر سُمیتا سے شادی کی پیشکش کی
،تصویر کا کیپشنانوج نے شہر کے مرکز میں ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر ہاتھوں میں ایک بڑا ٹوئٹ پوسٹر پکڑ کر اپنے گھٹنوں پر جُھک کر سُمیتا سے شادی کی پیشکش کی

ہم نے چیٹنگ (بات چیت) اور ٹویٹنگ سے آغاز کیا جو کہ براہ راست پیغام رسانی اور پھر ای میل ، اور پھر ٹیکسٹنگ اور پھر فون کالز میں بدل گئی اور پھر ہم نے باالمشافہ ملاقات کی۔ باقی میرا خیال ہے کہ تاریخ ہے!‘

ستمبر سنہ 2013 میں انوج نے ٹوئٹر پر سُمیتا کے لیے شادی کی ایک مفصل پیشکش کا اہتمام کیا اور یہی ٹوئٹر کا موضوع تھا۔ ٹویٹس کے ذریعے سمیتا کو اٹلانٹا میں شکار پر بھیجنے کے بعد انوج نے شہر کے مرکز میں ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر ہاتھوں میں ایک بڑا ٹوئٹ پوسٹر پکڑ کر اپنے گھٹنوں پر جُھک کر سُمیتا سے شادی کی پیشکش کی۔

برطانیہ کے عام انتخابات میں انگلینڈ کے بڑے شہر میرسی سائیڈ سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ ایبی ٹاملینسن نے جب محسوس کیا کہ لیبر پارٹی کے رہنما ای ڈی ملی بینڈ کے ساتھ پریس کی جانب سے منصفانہ برتاؤ نہیں کیا جارہا تو وہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’ملفینڈم‘ تخلیق کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔