’دہشت گردی کا فروغ‘، ہزاروں ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل

،تصویر کا ذریعہReuters
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے وسط 2015 سے ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد اکاؤنٹس #دہشت گردی کی سرگرمیوں کے فروغ یا دھمکی آمیز‘ پیغامات شائع کرنے پر معطل کیے ہیں۔
ٹوئٹر نے اپنے بلاگ پر بتایا ہے کہ معطل کیے گئے اکاؤنٹس ’زیادہ تر دولت اسلامیہ سے متعلق ہیں۔‘
ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ ’ہم دہشت گردی کے فروغ کے لیے ٹوئٹر کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔‘
اس کا کہنا ہے کہ اس نے شکایات کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیم میں اضافہ کیا ہے تاکہ تیزی سے کام کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ ٹوئٹر کے دنیا بھر میں 50 کروڑ صارفین ہیں۔
ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے نتائج دیکھے ہیں، جن میں اکاونٹس کے معطل کیے جانے میں اضافہ اور اس قسم کی سرگرمیوں کو ٹوئٹر سے دور رکھنا شامل ہیں۔‘
اس کا مزید کہنا ہے کہ جب بھی ’مناسب ہوا‘ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
امریکہ سمیت دنیا بھر کی حکومتوں آن لائن ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے تشدد کو فروغ روکنے کے حوالے سے مزید اقدامات پر زور دیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال دسمبر میں امریکی سیاستدانوں نے ایک ایسا بل پیش کیا تھا جس میں ٹوئٹر اور فیس بک سمیت ایسی کمپنیوں کو دہشت گردی کی کسی کارروائی کے متعلق اطلاع دینے کا پابند کیا گیا تھا۔
یورپی یونین کے حکام بھی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ یہ مسئلہ زیربحث لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گذشتہ سال مارچ میں فیس بک نے اپنے اصول و ضوابط میں تبدیلی کرتے ہوئے ’خطرناک تنظیموں‘ کا ایک الگ سیکشن متعارف کروایا تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ ’دہشت گردی کی کارروائی، باقاعدہ مجرمانہ سرگرمی یا نفرت کا فروغ‘ کرنے والے گروپوں پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔







