البغدادی نام ہونے پر ٹوئٹر اکاونٹ معطل

اس ساری صورتحال کے حوالے سے ٹوئٹر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس ساری صورتحال کے حوالے سے ٹوئٹر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے

عرب سپرنگ کے ایک سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ غلط فہمی کے باعث سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر نے ان کا اکاونٹ معطل کر دیا تھا کیونکہ ان کا خاندانی نام دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کے نام سے ملتا ہے۔

اید البغدادی کا اکاونٹ تقریباً آدھے گھنٹے تک معطل رہا۔

اس سے قبل انڈونیشیا کا ایک اخبار اور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ بھی دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کے طور پر ان کی غلط شناخت کر چکے ہیں۔

اُن کے ٹوئٹر پر 70 ہزار سے زیادہ فالورز ہیں اور اید البغدادی ٹوئٹر پر اکثر اپنے پیغامات کے ذریعے دولتِ اسلامیہ پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

اس ساری صورتحال کے حوالے سے ٹوئٹر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کے ٹوئٹر نے حال ہی میں غیر مہذب اور نفرت انگیز رویے سے متعلق اپنے قوائد و ضوابط میں تبدیلی کی ہے۔

ٹوئٹر پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ اپنی سائٹ پر دولتِ اسلامیہ کے پراپیگنڈے کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر نسل پرستی کا الزام لگایا ہے
،تصویر کا کیپشنانھوں نے ٹوئٹر پر نسل پرستی کا الزام لگایا ہے

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی سائٹ پر لوگوں کو دھمکانے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی اجازت نہیں ہے۔

اید البغدادی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ٹوئٹر کی جانب سے پیغام ملا تھا کہ وہ سائٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن اس کے علاوہ کوئی تفصیل انھیں نہیں بتائی گئی۔

انھوں نے ٹوئٹر پر نسل پرستی کا الزام لگایا ہے۔

البغدادی کا اپنی ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’ میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی ایسا عرب ملک ہو جہاں البغدادی نام کا کوئی خاندان نہ رہتا ہو۔‘

ان کے مطابق اس حالیہ واقعے سے ٹوئٹر کے سکیورٹی پراسس پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں اور لوگوں کے اکاونٹ معطل کرنے کے عمل کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔