ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپل کے بائیکاٹ کی اپیل

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلد ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اپیل کپمنی جب تک سان برنارڈینو کے حملہ آور کے آئی فون کو ان لاک نہیں کرتی اس وقت تک اس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
امریکی تحقیقی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ سان برنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کے آئی فون میں اہم معلومات ہیں جسے ان لاک کرنے سے کافی مدد مل سکتی ہے۔
ایف بی آئی تمام کوششوں کے باوجود ایسا کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے اسی لیے اس نے ایپل سے مدد کی اپیل کی تھی۔
کلیفورنیا کی ایک عدالت نے چند روز قبل ایپل کمپنی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس فون تک رسائی کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرے۔
لیکن کمپنی نے اس میں مدد سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ اس سے آئی فون کے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گي کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر ان کی نجی معلومات خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ جس ڈیٹا تک رسائی کی بات کہی جا رہی ہے اس تک خود اس کی بھی رسائی نہیں ہے اور یہ استعمال کرنے والے کی ذاتی پہنچ تک محدود ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اپنی انتخابی مہم کی ایک ریلی میں اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’اپیل کا اس وقت تک بائیکاٹ کریں جب تک وہ معلومات فراہم نہیں کر دیتے۔‘
عدالت کے اس حکم کے حوالے سے امریکی محکمۂ انصاف اور اور اپیل کمپنی کے درمیان ایک طرح تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی محکمۂ انصاف نے جمعے کو ایپل کے انکار کو ’بازار کی حکمتِ عملی‘ سے تعبیر کیا۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ عدالت نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل سے سان بارنارڈینو حملہ آور کے فون کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرنے کی جو مطالبہ کیا ہے اس کا مطلب آئی فون کے مواد تک ’چوری چھپے رسائی حاصل کرنا‘ نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا ’وہ صرف اس بات کے لیے کہہ رہے ہیں جس سے ان کا صرف ایک فون متاثر ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں گذشتہ برس اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔
اس سے پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گيا تھا ’امریکہ کی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔‘
ایپل نے ماضی میں بھی صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے خلاف سخت لڑائی لڑی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس سے صارفین کا کمپنی پر اعتماد مجروح ہو گا۔







