آئی فون کے ڈیٹا تک رسائی کا مطالبہ محدود ہے: وائٹ ہاؤس

ایف بھی آئی کے مطابق حملہ آور کے آئی فون میں موجود ڈیٹا بہت اہم معلومات پر مبنی ہو سکتا ہے لیکن اب تک اس تک رسائی نہیں ہو سکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایف بھی آئی کے مطابق حملہ آور کے آئی فون میں موجود ڈیٹا بہت اہم معلومات پر مبنی ہو سکتا ہے لیکن اب تک اس تک رسائی نہیں ہو سکی

وائٹ ہا‎ؤس کا کہنا ہے کہ عدالت نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل سے سان بارنارڈینو حملہ آور کے فون کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرنے کی جو مطالبہ کیا ہے اس کا مطلب آئی فون کے مواد تک ’چوری چھپے رسائی حاصل کرنا‘ نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی صرف ایک فون تک رسائی چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ڈیوائس تک چوری چھپے یا کمپنی کی ڈیوائس تک غیر قانونی رسائی چاہتے ہیں۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چيت میں انھوں نے کہا ’وہ صرف اس بات کے لیے کہہ رہے ہیں جس سے ان کا صرف ایک فون متاثر ہو گا۔‘

عدالت نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ سان بارنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کے آئی فون میں موجود ڈیٹا تک رسائي کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرے۔

گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔

ستمبر 2014 تک ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹڈ ہوجاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنستمبر 2014 تک ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹڈ ہوجاتا ہے

گذشتہ روز ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گيا تھا کہ ’امریکہ کی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں، جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔‘

اس دوران صدارتی امیدواری کی دوڑ میں شامل رپبلکن پارٹی کے امید وار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں ایف بی آئی کے موقف کی حمایت کی ہے۔

انھوں نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں عدالت کے حکم سے سو فیصد متفق ہوں۔ وہ اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں؟ انھیں اسے کھلوانا ہی پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں مجموعی طور پر سکیورٹی کے بارے میں فکر مند ہوں، ہمیں اسے کھولنا ہوگا، ہمیں دماغ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔‘

رپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدواری کی دوڑ میں شامل ایک دوسرے امیدوار مارکو روبیو نے بھی ایف بی آئی کی حمایت کی اور کہا کہ یہ ایک مشکل مسئلہ ہے جس میں کمپنی کو حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

اس سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی دوڑ میں شامل ہلیری کلنٹن نے بھی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امن و قانون بحال کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

 صدارتی امیدواری کی دوڑ میں شامل رپبلکن پارٹی کے امید وار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں ایف بی آئی کے موقف کی حمایت کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن صدارتی امیدواری کی دوڑ میں شامل رپبلکن پارٹی کے امید وار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں ایف بی آئی کے موقف کی حمایت کی ہے

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا تھا کہ رضوان فاروق کے آئی فون میں اہم معلومات ہیں اور عدالتی حکم میں ایپل سے کہا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی سافٹ ویئر کی مدد سے اس کا ڈیٹا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نکالے۔

ایف بی آئی فاروق کے فون میں پہلے تو اس طرح کی تبدیلی چاہتی ہے جس سے تفتیش کار ڈیٹا مٹنے کے خطرے کے بغیر جتنی بار چاہیں پاس کوڈ کی آزمائشی کوشش کر سکیں۔

وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ فون میں تیزی سے پاس کوڈ کی تبدیلی کے لیے راستہ ہموار کیا جائے تاکہ پاس کوڈ کے مختلف مرکبات آزمائے جا سکیں۔

ایپل نے اس بارے میں ابھی کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے لیکن اس کے موقف سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کمپنی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرے گی۔

ماضی میں بھی ایپل نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے خلاف سخت لڑائی لڑی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے صارفین کا کمپنی پر اعتماد مجروح ہو گا۔