’رابطہ آن لائن ہوا، ملاقات حج پر ہوئی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سین برنارڈینو کے حملہ آوروں کی ویزا درخواستوں سے پتہ چلا ہے کہ دونوں کے درمیان آن لائن رابطہ ہوا اور دونوں کی ملاقات سنہ 2013 میں حج کے دوران ہوئی۔
سید رضوان فاروق کی جانب سے منگیتر کے لیے ویزا درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان میں اور تاشفین ملک میں ایک ویب سائٹ کے توسط سے آن لائن رابطہ ہوا، انھوں نے ایک دوسرے کو ای میلز کیں اور اب وہ ملنا چاہتے ہیں۔
دونوں سے والدین حج کے موقعے پر سعودی عرب میں ملے۔
ان کے والدین کی ملاقات کے دوران دونوں کی منگنی کر دی گئی اور ایک ماہ میں تاشفین کے امریکہ پہنچتے ہی شادی طے پا گئی۔
امریکہ کی انصاف سے متعلق کمیٹی نے ویزے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
تاشفین نے رضوان فاروق کے ہمراہ سین برنارڈینو کے علاقے میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ دونوں حملے کے کچھ گھنٹے بعد پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تاشفین کی ویزا درخواستوں کی فائل میں بھی اس کے سعودی ویزے کی مہر لگے پاسپورٹ کی کاپیاں اور رضوان فاروق کی جانب سے ان کی ملاقات اور شادی کی ِخواہش کے پس منظر کا بیان موجود ہے۔
تاشفین کو ویزے کا اجرا اب بھی تحقیقات کا موضوع ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئیں لیکن سعودی عرب میں پرورش پائی۔
امریکی حکام کے مطابق ’اس بات کا اب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ حملہ آور کسی منظم جہادی تنظیم کا حصہ تھے۔‘
تاہم انھوں نے بتایا کہ تاشفین کی امریکہ آمد سے قبل وہ اور رضوان جہاد کی حمایت کا اظہار کر چکے تھے۔
حال ہی میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر تنقید کی گئی تھی کہ انھوں نے حملہ آور تاشفین ملک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جائزہ لیے بغیر انھیں سنہ 2014 میں امریکہ میں داخل ہونے دیا تھا۔







