’حملہ آور جوڑے نے حملے سے قبل نشانہ بازی کی مشقیں کیں‘

حکام کا کہنا تھا کہ وہ دونوں شدت پسندی کی جانب مائل تھے اور ایسا ’کچھ عرصے‘ سے تھا

،تصویر کا ذریعہABC News

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا تھا کہ وہ دونوں شدت پسندی کی جانب مائل تھے اور ایسا ’کچھ عرصے‘ سے تھا

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں فائرنگ کرنے والے جوڑے نے حملے سے کئی دن قبل ہدف کو نشانہ بنانے کی مشقیں کی تھیں۔

کیلی فورنیا کے علاقے سان برناڈینو میں ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر گذشتہ بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد یہ دونوں حملہ آور پولیس کے ساتھ ہونے والے مقابلے میں مارے گئے تھے۔

<link type="page"><caption> ’چلے جاؤ یہاں تاشفین نہیں آئی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151206_tashfeen_pak_home_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’امریکہ پہنچ کر اہم کام کرنا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151205_no_meeting_on_california_attacker_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> امریکہ ایسے حملوں سے خوف زدہ نہیں ہوگا: اوباما</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151205_obama_us_shooting_atk.shtml" platform="highweb"/></link>

ایف بی آئی کے لاس اینجلس دفتر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیوڈ بوڈچ کا کہنا ہے کہ تاشفین ملک اور ان کے شوہر سید رضوان فاروق لاس اینجلس کے علاقے میں واقع رینجز گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں شدت پسندی کی جانب مائل تھے اور ایسا ’کچھ عرصے‘ سے تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حملوں کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ تاحال ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حملوں کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال انھیں ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حملوں کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی۔

ایف بی آئی کی جانب سے سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ کی جانب سے معذوروں کے مرکز میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں پر فائرنگ کرنے سے قبل کوئی تفتیش نہیں کی گئی تھی۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھیں اس جوڑے کے گھر سے 19 پائپ بھی ملے ہیں جس سے بم تیار کیے جاسکتے تھے۔

امریکی نیوز چینل اے بی سی نیوز نے اس جوڑے کی شکاگو کے او ہارے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 27 جولائی 2014 کو لی گئی تصویر بھی حاصل کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سید رضوان فاروق سعودی عرب گئے تھے اور دو ہفتے قیام کے بعد تاشفین ملک کے ہمراہ واپس آئے تھے۔

رضوان فاروق کے والد نے ایک اطالوی اخبار لا سٹامپا کو بتایا ہے کہ ان کا بیٹا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ ہمدردی اور اسرائیل کی بارے میں خبط رکھتا تھا۔

سان برناڈینو میں ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر ہونے والے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسان برناڈینو میں ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر ہونے والے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے

سید رضوان فاروق کے خاندان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل انھیں بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے اس کی داڑھی کا مذاق اڑایا تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان جانتا تھا کہ ان کے پاس دو ہینڈ گنیں اور دو رائفلیں ہیں۔

تاہم ان کے خاندان کو اس جوڑے کے پاس موجود دیگر اسلحے کے بارے میں علم نہیں تھا۔

دوسری جانب مبینہ طور پر تاشفین ملک نے فیس بک کے ایک دوسرے اکاؤنٹ کے ذریعے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما سے وفاداری کے بارے میں پوسٹ کی تھی۔

پیر کو امریکی کے محکمہ قانون کا کہنا تھا کہ وہ کیلی فونیا میں ہونے والے حملے کے بعد مسلمان مخالف جذبات یا اس سے ابھرنے والے ممکنہ حملوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔