’امریکہ پہنچ کر اہم کام کرنا ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں فائرنگ میں ملوث خاتون حملہ آور تاشفین ملک کی ایک رشتے دار خاتون کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد تاشفین نے کہا تھا کہ ’انھیں امریکہ جا کر کوئی اہم کام کرنا ہے۔‘
سنیچر کو ملتان کے ایک مقامی صحافی عاصم تنویر نے جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن کے محلہ شیخان والا میں تاشفین ملک کے عزیز و اقارب سے ملنے کے بعد بی بی سی سیربین کو بتایا کہ تاشفین ملک نے کچھ عرصہ قبل ملتان کی بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی سے بی فارمیسی کی تعلیم حاصل کی۔
<link type="page"><caption> کیلیفورنیا میں ہلاکتیں’دہشت گردی کی کارروائی‘ہیں: ایف بی آئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151204_california_suspects_is_links_sr" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کیلیفورنیا میں فائرنگ، 14 شہری اور دو مشتبہ حملہ آور ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151202_california_shooting_zh" platform="highweb"/></link>
تاشفین ملک کے ایک رشتے دار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’وہ بہت چھوٹی عمر میں یہاں تھی اور پھر 25 سال قبل اُن کا خاندان سعودی عرب منتقل ہو گیا، جہاں تاشفین میں قدامت پسندی اور سخت گیر مذہبی رجحانات پیدا ہوئے۔‘
تاشفین ملک کی ایک کزن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’تاشفین امریکہ پہنچنے کے بعد اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر جس طرح کے پیغامات لکھتی تھیں اس پرلوگوں کو تشویش بھی ہوئی تھی۔جب اس کے والدین نے انھیں اپنے شوہر کے ہمراہ سعودی عرب میں رہائش کا مشورہ دیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں امریکہ جا کر کوئی اہم کام کرنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
تاشفین ملک کے کزن کا کہنا ہے کہ خاندان کے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شاید مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ میں رہنا چاہتی ہیں۔
تاشفین کی پھوپھی حفظہ بتول نے صحافی عاصم تنویر کو بتایا کہ انھیں اپنی بھتیجی کے اس فعل پر افسوس ہے، جس سے نہ صرف ان کا خاندان بلکہ ملک بھی بدنام ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی کی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو کے ایک سینٹر پر فائرنگ میں ملوث خاتون حملہ آور تاشفین ملک کا تعلق صوبہ پنجاب کے پسماندہ علاقے سے ہے۔
گذشتہ روز امریکی حکام نے کہا تھا کہ 27 سالہ تاشفین ملک نے فیس بک پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما کی بیعت کی تھی۔
ادھر پاکستان کی حکومت نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کی تردید کی ہے اور کہا کہ کیلیفورنیا میں سینٹر پر حملہ کرنے والی خاتون تاشفین ملک کے بارے میں امریکی سفارت خانے کے اہلکار نے لندن میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات نہیں کی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہاگیا ہے کہ ایسی خبریں بے بنیاد ہیں۔
یاد رہے کہ مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ کیلیفورنیا میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث حملہ آوروں کے مکان پر چھاپے کے دوران تاشفین ملک کی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے ساتھ تصویر ملی ہے۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ لندن میں وزیراعظم نواز شریف سے امریکی سفارت کار نے ملاقات کر کے تاشفین کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔وزیراعظم ہاؤس نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لندن میں وزیراعظم نواز شریف سے کسی بھی امریکی اہلکار نے ملاقات نہیں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات دہشت گرد کارروائی کے تحت کی جا رہی اور اس سلسلے میں امریکہ پاکستان اور سعودی عرب سے معلومات کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسی کون سے وجوہات ہے جس کی بنا پر یہ جوڑا اپنی نوزائیدہ بچی کو چھوڑ کر دہشت گردی کے واقعے کے لیے روانہ ہوا۔
تاشفین ملک نے اپنے امریکی شوہر رضوان فاروق کے ہمراہ سان برنارڈینو کے ایک سینٹر میں فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور واقعے کے بعد یہ دونوں حملہ آور پولیس کے ساتھ ہونے والے مقابلے میں مارے گئے تھے۔







